نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 705 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 705

گا۔گویا مسلمانوں کی ترقی کبھی بھی دنیوی ذرائع سے نہیں ہوگی بلکہ مامورین پر ایمان لانے اور ان کی ہدایات پر چلنے کے ذریعہ ہوگی جیسا کہ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَی کے الفاظ اس پر شاہد ہیں کہ قرآن کریم کے خدام جو بھولے ہوئے قرآن کو پھر واپس لائیں گے اُن کے ذریعہ ہی مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عزت کو حاصل کر سکیں گے۔آج جو مسلمان سیاسی ذرائع سے ترقی حاصل کرنا چاہتے ہیں اُن کو سورۃ الاعلیٰ کے مضامین کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اب اس سورۃ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب بھی اسلام کی ترقی ہوگی تلواروں کے سایہ کے نیچے ہوگی۔کبھی کوئی مامور ایسا نہیں آسکتا جس کے آنے پر دُنیا اُس کا خوشی سے استقبال کرے اور کہے جی آیاں نوں“ یا ”بھلے آئے“ یا بر سر و چشم بلکہ جب بھی کوئی مامور آئے گاوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ کی حالت رونما ہوگی اور ضرور اس کی مخالفت ہو گی۔اس مخالفت کے بغیر کسی روحانی سلسلہ کی ترقی کا امکان بالکل ناممکن ہے۔اگر حضرت مسیح ناصری جیسا کہ مسلمان سمجھتے ہیں کسی وقت آسمان سے اتر آئیں تو ان کے زمانہ میں وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ قاصِبَةٌ کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی۔لوگ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے اور اُن کے حلقہ غلامی میں شامل ہو جائیں گے کیونکہ فرشتے اُن کے ساتھ ہوں گے اور کسی کو انکار کی جرات نہیں ہو سکے گی۔مگر الہی سنت کے ماتحت ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ضروری ہے کہ ہر الہی سلسلہ کی مخالفت ہو اور مخالفت کے بعد اُس کو ترقی نصیب ہو۔غرض اِن دونوں سورتوں سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام کو ہمیشہ شدید مخالفت کے بعد ترقی ہوتی ہے۔پس یہ دونوں سورتیں مضامین کے لحاظ سے آپس میں گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ان ہر دو سورتوں میں اسلام کی ترقی کے دو اصول بیان کئے گئے ہیں۔سورۃ الاعلیٰ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا تنزل ہوگا قرآن کریم کے بھولنے سے ہوگا اور جب بھی مسلمانوں کی ترقی ہوگی ایسے شخص کے ذریعہ ہوگی جو قرآن کو آسمان سے واپس لائے گا۔گویا ایسے مامور تو آئیں گے جو بھولے ہوئے قرآن کو یاد کرائیں گے مگر ایسے مامور نہیں آسکتے جو 705