نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 594 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 594

صبر تمہیں اختیار کرنے پڑیں گے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا چند اشارے کرتے ہوئے میں آگے چلتا ہوں۔اس مضمون کو جب آپ کھولیں گے تو بہت سی کام کی باتیں اور بڑی حکمت کی باتیں آپ کے ہاتھ میں آئیں گی۔دوسرے صبر کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ تم تو محبت کر رہے ہو گے وہ تمہیں دکھ دے رہے ہوں گے اور اس دکھ کے نتیجہ میں تمہارے اندر کوئی ایسی قوت پیدا ہونی چاہئے جس سے تمہیں وہ غلبہ نصیب ہوگا جس کی طرف ہم تمہیں بلارہے ہیں یا جس کا ہم تم سے وعدہ کر رہے ہیں۔صبر کس قوت میں ڈھلا کرتا ہے؟ یہ اصل سوال ہے۔اگر صبر سچا ہے اور وہ شخص اپنے دعویٰ میں سچا ہو کہ وہ اپنے نفس کی خاطر کسی کی بھلائی نہیں کر رہا بلکہ دوسرے کی بھلائی کی خاطر وہ کر رہا ہے اور جس کے لئے کوئی کام کر رہا ہو اس کے لئے رحم کا اور شفقت کا اور محبت کا حقیقی تعلق ہو تو پھر جب وہ دوسرا انکار کرتا ہے تو صبر ہمیشہ اس کے لئے دعا میں تبدیل ہوا کرتا ہے، عفصہ میں تبدیل نہیں ہوا کرتا۔ماں جب بیٹے کو نصیحت کرتی ہے اور وہ ضد کرتا ہے اور کہنا نہیں مانتا تو کوئی جاہل ماں ہوگی جو اس پر لعنت ڈالنا شروع کر دے ورنہ ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ مائیں پھر روتی ہیں، اپنی جان ہلکان کر رہی ہوتی ہیں، راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرتی ہیں اور دوسرے لوگوں کو دعا کے لئے خط لکھتی ہیں کہ میرا بچہ تباہ ہورہا ہے دعا کریں نیک بن جائے۔پس صبر سے جو عظیم الشان قوت پیدا ہوتی ہے وہ دعا کی قوت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم محض اپنی باتوں پر اور نیک اعمال پر انحصار نہ کرنا۔جب ان باتوں پر صبر کرو گے پھر بھی تمہیں دکھ دئیے جائیں گے اور صبر لازماً دعاؤں میں ڈھلے گا اور وہ دعائیں عظیم الشان نتیجہ پیدا کریں گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ جو فرمایا ہے کہ عرب کے بیابان میں جو ایک ماجرا گزرا کہ صدیوں کے مردے زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے الہی رنگ پکڑ گئے جانتے ہو وہ کیا تھا وہ ایک فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تو تھیں۔( برکات الدعا روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 11) ایسی دعائیں صبر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔بے صبر تو اپنے دل کی بات غصہ کے 594