نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 595 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 595

ذریعہ نکال لیتا ہے، اس کے آنسو کہاں سے نکلیں گے جو گالی کے ذریعہ جواب دے کر اپنا دل ٹھنڈا کر بیٹھا ہو، سامنے بات کرنے سے ڈرتا ہو تو پیچھے گھر میں آکر ہزار بڑبڑ کرے کہ یہ بکواس اس نے کی، یہ کیا اور وہ کیا ، تو اس بیچارے کو کہاں سے تو فیق ملنی ہے کہ رات کو اٹھ کر روئے۔لیکن جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ صرف خدا کی خاطر مجھے مار پڑی ہے، صرف خدا کی خاطر مجھے تکلیف دی گئی ہے اور خاموش رہتا ہے اور اپنی توجہ کو اپنے رب کی طرف پھیرتا ہے کہ اے اللہ ! میں تیری خاطر مارا گیا، میں تیری خاطر ذلیل ہوا مگر میں صبر کرتا ہوں ، تب اندر ہی اندراس کا دل ایسا کھلنے لگتا ہے کہ پھر جب وہ رات کو اٹھتا ہے تو اس کے آنسو بے اختیار نکلتے ہیں۔ایسی حالت میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی آواز ایسے درد کے ساتھ اور ایسی ہوک کے ساتھ اٹھتی ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ بارگاہ الہی میں مقبول نہ ہو۔پس تبلیغ کا صبر سے گہرا تعلق ہے اور صبر بھی وہ صبر جو دعا پر منتج ہو جائے۔جو دردناک دعاؤں میں تبدیل ہو جائے۔تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ۔تمہیں یوں محسوس ہوگا جیسے اچانک انقلاب آ گیا ہے تم حیران رہ جاؤ گے کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا کل تک تو گالیاں دینے والے تھے آج ان کو کیا ہو گیا اور یہ واقعات پہلے بھی رونما ہوئے ہیں آج بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں لیکن ان کی اعلیٰ مثال کے طور پر مضمون کو مختصر کرتے ہوئے آخر پر قرآن کریم ایک ایسی بات بتاتا ہے جو ساری باتوں کی جامع ہے اور تمام نصیحتوں کا منبع اور سرچشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يُلَقَاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُوحَةٍ عَظِیم کہ تم میں سے جو بھی صبر کرے گا وہ بھی یہی پھل پائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسا ذُو حظ عظیم کو یہ نتیجہ ملا ویسا کسی کو نہیں مل سکتا۔یہ ذُو حظ عظیم کون ہے؟ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کیونکہ آپ نے سب سے زیادہ صبر کا نمونہ دکھایا ہے ذُوحَظ عَظِیمٍ اس شخص کو کہتے ہیں جس نے صبر میں سب سے زیادہ حصہ پایا ہو۔عام صبر کرنے والے بھی ہیں ان کو بھی خدا پھل سے محروم نہیں رکھے گا لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم 595