نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 593 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 593

اب دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ محبت کا پیغام لائے ہیں، سب سے زیادہ احسن قول آپ کا قول تھا ، سب سے زیادہ احسن عمل آپ کا عمل تھا، اس کے باوجود سب سے زیادہ مخالفت آپ سے کی گئی۔تو پھر فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ مَا کیا مطلب ہوا ؟ اس مضمون کو صبر نے کھولا ہے۔فرمایا شروع میں ایسا ہی ہو گا جب تم نیک کاموں کی طرف بلانا شروع کرو گے تو شروع میں قوم کا اسی قسم کا ردعمل ہوگا۔تمہاری محبتوں کے نتیجہ میں شدید نفرتیں پیدا ہوں گی لیکن اگر تم متزلزل نہ ہوئے ، اگر تم اپنی محبت پر قائم رہے، اگر اپنے قول اور فعل کے حسن پر قائم رہے تو پھر اس صبر کے نتیجہ میں ڈالذینی والا واقعہ رونما ہوگا۔اور جب ایسا ہوگا تو تمہیں یوں لگے گا جیسے اچانک ہو گیا ہے۔حالانکہ صبر اندر ہی اندر مخالفتوں کو کھا جایا کرتا ہے۔صبر میں بڑی قوت ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ صبر کرنے والے کی دعائیں اور کوششیں جب پھل لاتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے اچانک پھل لگ گیا ہے۔اس تأثر کو ظاہر کرنے کے لئے قرآن کریم نے فرمایا فإذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ دوسرے إِذَا الَّذِی میں ایک اور مضمون بھی ہے۔اِذَا الَّذینی اچانک پن کے علاوہ ایک غیر معمولی واقعہ کی تحسین کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے کہ دیکھو دیکھو کیساشاندار نتیجہ نکلنے والا ہے۔ان معنوں میں بھی اذا الذینی استعمال ہوتا ہے۔تو دوسرے معنی اس کے یہ بنیں گے کہ دیکھو ان کوششوں کا کیسا عظیم الشان نتیجہ نکلا ہے۔ہم جو تمہیں کہتے تھے کہ یوں کرو تو یونہی نہیں کہتے تھے۔حیرت انگیز انقلاب بر پا کرنے والا مضمون تھا۔فرمایا فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ دیکھنا کتنا عظیم الشان انقلاب بر پا ہو گیا کہ تمہارے خون کے دشمن جاں نثار دوست بن گئے۔میں اس وقت چند ایک باتیں صبر کے مضمون میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ صبر دونوں جگہ ہے یعنی قول میں بھی اور عمل میں بھی۔جو بات کہنے کی ہے وہ کہتے چلے جانا ہے۔یہ ہے قول کا صبر اور جو حسن عمل ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹنا۔آزمائش جتنی مرضی سخت ہوتی چلی جائے تم نے اپنے اعمال کے حسن کو بدی میں نہیں تبدیل ہونے دینا۔یہ دو قسم کے 593