نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 50 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 50

انسان کے لئے اپنے اخلاق اور سیرت کے لحاظ سے اس کی ذات والا صفات کا پرتو ہوں اور ان دونوں صفات کو اپنا لباس اور پوشش بنالیں تا عبودیت ربوبیت کے اخلاق کا جامہ پہن لے۔اور انسان کے (روحانی) نشو و نما میں کوئی نقص باقی نہ رہ جائے۔پس اُس نے انبیاء اور مرسلین کو پیدا کیا اور ان میں سے بعض کو اپنی صفت رحمانیت کا اور بعض کو اپنی صفت رحیمیت کا مظہر بنایا تا کہ وہ محبوب بھی ہوں اور محب بھی اور اس کے فضل عظیم کے ساتھ آپس میں محبت سے زندگی بسر کریں اُس نے ان میں سے بعض کو محبوبیت کی صفت سے حصہ وافر عطا فرمایا اور بعض دوسروں کو صفت محبیت کا بہت سا حصہ دیا۔اور اسی کا خدا تعالیٰ نے اپنے وسیع فضل اور دائمی کرم سے ارادہ فرمایا۔اور جب ہمارے آقاسید المرسلین و خاتم النبیین محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات نے ارادہ فرمایا کہ ان دونوں صفات کو ایک ہی شخصیت میں جمع کردے۔چنانچہ اس نے آنحضرت کی ذات میں (آپ پر ہزاروں ہزار درود اور سلام ہو) یہ دونوں صفات جمع کر دیں۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے شروع میں صفت محبوبیت اور صفت محبیت کا خاص طور پر ذکر کیا ہے تا اس سے خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کی طرف اشارہ ہو اور اس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد اور احمد رکھا۔جیسا کہ اُس نے اس آیت میں اپنا نام الرحمن اور الرحیم رکھا۔پس یہ بات اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان دونوں صفات کا ہمارے آقا فخر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی جامع وجود نہیں۔اور آپ کو معلوم ہے کہ یہ دونوں صفات خدا تعالیٰ کی صفات میں سے سب سے بڑی صفات ہیں بلکہ یہ اس کے تمام صفاتی ناموں کے خلاصوں کا خلاصہ اور حقیقتوں کی نچوڑ ہیں۔یہ ہر اس شخص کے کمال کا معیار ہیں جو کمال کا طالب ہے اور اخلاقِ الہیہ کا رنگ اختیار کرتا ہے۔پھر ان دونوں صفات میں سے کامل حصہ صرف ہمارے نبی سلسلہ نبوت کے خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیا گیا ہے کیونکہ آپ کو پروردگار دو عالم کے فضل سے ان دونوں صفات کی طرح دو نام دیئے گئے ہیں جن میں سے پہلا محمد ہے اور دوسرا احمد۔پس اسم محمد نے صفت الرحمن کی چادر 50