نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 49 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 49

مستحسن قرار دیا گیا ہے نیز یہ آیت مسلمانوں کی زبانوں پر اکثر جاری رہتی ہے۔اور خدائے عزیز کی کتاب قرآن کریم میں بڑی کثرت سے دہرائی گئی ہے۔تو پھر کس حکمت اور مصلحت کے ماتحت اس مبارک آیت میں خدا تعالیٰ کی دوسری صفات درج نہیں کی گئیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ ارادہ فرمایا کہ اپنے اسم اعظم کے ساتھ انہی دو صفات کا ذکر کرے جو اس کی تمام صفات عظیمہ کا پورا پورا خلاصہ ہیں۔اور وہ دونوں صفات الرحمن اور الرّحِیم ہیں۔چنانچہ عقل سلیم بھی اسی کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس دنیا پر کبھی بطور محبوب اور کبھی بطور محب تجلی فرمائی ہے اور اس نے ان دونوں صفات کو ایسی روشنی بنایا ہے جو آفتاب ربوبیت سے عبودیت کی زمین پر نازل ہوتی ہے۔پس کبھی تو خدا تعالیٰ محبوب بن جاتا ہے اور بندہ اس محبوب کا محب اور کبھی بندہ محبوب بن جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کا محب ہوتا ہے اور بندہ کو مطلوب کی طرح بنالیتا ہے۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ انسانی فطرت جس میں محبت ، دوستی اور سوز دل ودیعت کیا گیا ہے چاہتی ہے کہ اس کا کوئی محبوب ہو جو اسے اپنی تجلیات جمالیہ اور نعمتوں اور عطایا سے اپنی طرف کھینچے اور یہ کہ اس کا کوئی ایسا غم خوار دوست ہو جو خوف اور پریشان حالی کے وقت اس کا ساتھ دے وہ اس کے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائے اور اس کی امیدوں کو پورا کرے۔پس خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ جو کچھ انسان کی فطرت تقاضا کرتی ہے وہ اسے عطا کرے اور اپنی وسیع بخشش کے طفیل اس پر اپنی نعمتوں کو پورا کرے۔سو اُس نے اپنی انہی دو صفات الرحمن اور الرّحیم کے ساتھ اس پر تجلی فرمائی۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دونوں صفات ربوبیت اور عبودیت کے درمیان ایک واسطہ ہیں اور انہی دونوں کے ذریعہ انسانی معرفت اور سلوک کا دائرہ مکمل ہوتا ہے۔ان دونوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کی باقی تمام صفات انہی دو صفتوں کے انوار میں شامل ہیں اور ان سمندروں کا ایک قطرہ ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی ذات نے جس طرح اپنے لئے چاہا ہے کہ وہ نوع انسان کے لئے محبوب اور محب بنے اسی طرح اُس نے اپنے کامل بندوں کے لئے چاہا کہ وہ بھی دوسرے بنی نوع 49