نُورِ ہدایت — Page 51
پہنی اور جلال اور محبوبیت کے لباس میں جلوہ گر ہوا اور اپنی نیکی اور احسان کی بناء پر بار بار تعریف بھی کیا گیا۔اور اسم احمد نے خدا تعالیٰ کے فضل سے جو مومنوں کی مدد اور نصرت کا متولی ہے رحیمیت، محبیت اور جمال کے لباس میں تجلی فرمائی۔پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں نام محمد اور احمد) ہمارے رب محسن کی دونوں صفتوں (الرحمان، الرحیم) کے مقابلہ میں منعکسہ صورتوں کی طرح ہیں جن کو دو مقابل کے آئینے ظاہر کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے آیت دَنَا فَتَدَلَّى (النجم 8) اور آیت قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادْنٰی (النجم (9) میں اسی ( محبوبیت اور محبیت کے مضمون ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔پھر چونکہ یہ گمان پیدا ہو سکتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جولوگوں کے مطاع اور اللہ تعالیٰ کے بہت عبادت گزار ہیں پروردگار عالم کا ان دو صفات سے متصف کرنا لوگوں کو شرک کی طرف مائل کر سکتا ہے۔جیسا کہ ایسے ہی اعتقاد کی بنا پر حضرت عیسی کو معبود بنا لیا گیا۔سو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ وہ امت مرحومہ کو بھی ( علی حسب مراتب ) ظلی طور پر ان دونوں صفات کا وارث بنادے۔تا یہ دونوں نام امت کیلئے برکات جاریہ کا موجب بنیں اور تا صفات الہیہ میں کسی خاص بندہ کے شریک ہونے کا وہم بھی دور ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ اور بعد آنے والے مسلمانوں کو رحمانی اور جلالی شان کی بنا پر اسم محمد کا مظہر بنایا اور انہیں غلبہ عطا فرمایا۔اور متواتر عنایات سے ان کی مدد کی اور مسیح موعود کو اسم احمد کا مظہر بنایا اور اُسے رحیمی اور جمالی صفات کے ساتھ مبعوث فرمایا اور اس کے دل میں رحمت اور شفقت رکھ دی اور اُسے بلند اخلاق فاضلہ کے ساتھ آراستہ کیا۔۔۔۔اسم عیسی اور اسم احمد اپنی ماہیت میں ایک ہی ہیں اور طبیعت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں اور اپنی کیفیت کے لحاظ سے یہ نام جمال اور ترک قتال پر دلالت کرتے ہیں لیکن اسم محمد قہر اور جلال کا نام ہے اور یہ ہر دو نام محمد اور احمد، رحمن و رحیم کے لئے بطور ظل کے ہیں۔۔۔۔پھر جب صحابہ کرام خدائے بخشندہ کی طرف سے اسم محمد کے وارث ہوئے اور انہوں 51