نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 558 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 558

ہے کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث ہو جاؤ اور حقیقی رؤیا اور الہام سے حصہ پاؤ۔الحكم 17 مئی 1905ء صفحہ 6، 22 فروری 1905ء) تقویٰ کا ابتدا دعا، خیرات اور صدقہ سے ہے اور آخر ان لوگوں میں شامل ہونے سے ہے جن کی نسبت فرمایا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر استقامت دکھلائی۔( بدر 13 دسمبر 1906، صفحہ 9) نیکی کی تحریک کے لئے ملائکہ بڑی نعمت ہیں وہ انسان کے دل میں نیکی کی تحریک کرتے ہیں۔اگر کوئی ان کے کہنے کو مان لے تو اس طبقہ کے جو ملائکہ ہیں وہ سب اس کے دوست ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں فرمایا۔نَحْنُ اَوْلِيَاءُ كُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (حم السجده32) ایسی پاک مخلوق کسی کی دوست ہو اور کیا خواہش ہو سکتی ہے۔(احکم 7 ، 14 جولائی 1911 ، صفحہ 6) انسان کو بیٹھے بیٹھے کبھی نیک اور کبھی ہدارا دے پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ کیوں ہوتے ہیں۔جبکہ کوئی کام بڑوں اسباب اور علمل کے نہیں ہوتا تو نیک اور بد ارادے کی تحریک کیوں ہوئی ؟ اس تحریک کو ہماری شریعت میں فرشتہ کہتے ہیں۔ہم اسی پر قناعت کرتے اور نیکی کے محرک کا نام فرشتہ رکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ملائکہ وشیاطین کو ہر وقت انسان کے دل سے تعلق رہتا ہے اور موقعہ پر تحریکیں کرتے ہیں۔اگر وہ تحریک نیکی کی ہے تو فرشتہ کی طرف سے ہے اور بتدریج پھر وہ تحریک ہوتی اور بڑھتی جاتی ہے۔اور وہ انسان اس میں لگ پڑتا ہے یہاں تک کہ اس کے ملائکہ اور شیاطین میں جنگ ہو پڑتی اور ملائکہ جیت جاتے اور پھر وہ شخص فرشتوں سے مصافحہ کر لیتا ہے۔اس کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ۔۔۔الآية 558