نُورِ ہدایت — Page 559
پس ایسے لوگوں پر پھر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور خدا کہتا ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔مت غم کھاؤ۔پس اس طرح ملائکہ کا ماننا بھی نیکی سکھلاتا اور بدی سے روکتا ہے۔( الحکم 24 جنوری 1905ء صفحہ 11) وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنه وَلى عيمٌ وَمَا يُلَقَهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ( حم السجده : 36-35) نیکی و بدی۔دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم پلہ اور خوبی میں مساوی نہیں۔بدی کا دفعیہ نیکی کے ساتھ کر دکھاؤ۔اگر ایسا ہی حسن سلوک اپنے دشمنوں سے کر دکھاؤ گے تو تمہارے دشمن بھی تمہارے بچے دوستوں اور گرم جوش والے خیر خواہوں کی طرح ہو جاویں گے۔اس نصیحت کو وہی لوگ مانیں جو بڑی بردباری اور بلند حوصلگی کا حصہ رکھتے ہیں۔تصدیق براہین احمدیہ صفحہ 274، 275) وَلَا تَسْتَوِىی۔اس سوال کا جواب کہ ہمیں یہ کیونکر معلوم ہو یہ نیک ہے یا بد؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نیکی اور بدی کی حقیقت پر غور کرنے سے خود بخود یہ بات معلوم ہو جاتی ہے۔بہ لحاظ اثرات و نتائج بھی یہ دونوں چیزیں الگ ہیں۔نبی کریم صلعم نے بھی ایک اصول بتایا ہے دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلى مَا لَا يُريبُك۔جو چیز تجھے دل میں کھٹکتی ہے اسے چھوڑ دے اور اختیار کر اسے جو نہ کھٹکے۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ - بعض اوقات فوری جوش میں امتیاز نہیں ہو سکتا۔اس لئے ایک عمدہ طریق بتایا ہے کہ صبر سے کام لیا جائے۔جوش کے رفع ہونے پر اصل کیفیت کھل جاتی ہے - يُلَقَهَا تَلْقِي بِالْقُبُول کے معنی ہیں۔خوشی سے کسی بات کو مان لینا۔صبر کہتے ہیں اس مصیبت کو برداشت کر لینے کو جو کسی فعل یا ترک فعل سے حکم الہی کے ماتحت پیش آوے۔ذُو حظ عظیم اللہ تعالی ساری دنیا کو متاع قلیل فرماتا ہے۔پس 559