نُورِ ہدایت — Page 557
ہے؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دو بلکہ صبر کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہوگا اور ی سزا اس سزا سے کہیں بڑھ کر ہوگی جو انتقامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔خوش اخلاقی ایک ایسا جوہر ہے کہ موذی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔کیا اچھا کہا ہے کہ ع لطف کن لطف که بیگانه شود حلقه بگوش حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ، صفحہ 83) جو لوگ ایمان کو مشروط کرتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا۔ہاں خدا تعالیٰ کسی کو خالی نہیں چھوڑتا۔جو اس کی راہ میں صدق و ثبات سے قدم رکھتا ہے وہ بھی اس قسم کے انعامات سے بہرہ وافر لے لیتا ہے۔جیسے فرمایا الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ - جن لوگوں نے اپنے قول و فعل سے بتایا کہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے۔پھر انہوں نے اس پر استقامت دکھائی۔ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ ملائکہ سے پہلے دو باتیں ضروری ہیں۔ربنا اللہ کا اقرار اور اس پر صدق و ثبات اور اظہار استقامت۔ایک نادان سُنت اللہ سے ناواقف ان مراحل کو تو طے نہیں کرتا اور امید رکھتا ہے اس مقام پر پہنچنے کی جواُن کے بعد واقع ہے۔یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے۔اس قسم کے شیطانی وسوسوں سے بھی الگ رہنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں استقامت اور عجز کے ساتھ قدم اٹھاؤ۔قومی سے کام لو۔اس کی مدد طلب کرو۔پھر یہ کوئی بڑی بات نہیں 557