نُورِ ہدایت — Page 439
میٹر آئے ہوں۔یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی وسعت علمی کی وجہ سے تمام حالات کو جانتا ہے۔اس لئے جب وہ کسی کو مکلف کرتا ہے تو وہ ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر کرتا ہے جو کسی بھی انسان کے بارہ میں اس کے علم میں ہیں۔اگر انسان اپنی صلاحیتوں کو جو خداداد ہیں اُس علم کے حصول کے لئے استعمال میں نہیں لاتا جس کے حاصل کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا تھا تو ایسا شخص پھر جوابدہ ہے۔یہاں لا يُكلف الله نفسا کا مطلب یہی ہے کہ اپنے نفس کو تم نے اس طرح استعمال نہیں کیا جو اس کا حق بنتا تھا اور ایک مسلمان کہلانے والے کے لئے سب سے بڑھ کر دینی علم میں ترقی ہے جس کی اس کو کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ طالب حق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہر گز ٹھہر نا نہیں چاہئے۔ورنہ شیطان لعین اور طرف لگا دے گا اور جیسے بند پانی میں عفونت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لئے سعی نہ کرے تو وہ گر جاتا ہے۔پس سعادت مند کا فرض ہے کہ وہ طلب دین میں لگا رہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرا لیکن آپ " کو بھی رَبِّ زِدْنِي عِلما کی دعا تعلیم ہوئی تھی۔پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 142 141 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس یہاں لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا سے مطلب ہے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ علم کے حصول کی کوشش کرو۔اگر تم یہ کوشش کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے رہو گے۔کیونکہ وسعت علمی کی وجہ سے یعنی اُس علم کی وجہ سے جو خدا تعالیٰ کی پہچان کی طرف مائل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک بڑھتا ہے اور اس ادراک کی وجہ سے ایک انسان اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يَخشَى اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر (29) که یقیناً حقیقت یہی ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء اس سے ڈرتے ہیں۔پس علم میں اضافہ دل میں خشیت پیدا کرتا ہے۔یہاں اُن 439