نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 438 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 438

یعنی علم کے حصول کے لئے محنت کرو۔اور اپنے علم میں اضافہ کی طرف تا زندگی توجہ دیتے رہو۔بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی نفس کو وہ تکلیف میں نہیں ڈالتا۔یعنی کسی شخص کو اس وقت تک اس کا مکلف نہیں کرتا، اس کی جواب دہی نہیں کرتا جب تک کسی معاملہ میں اس کی وسعت اور صلاحیت اور استعداد نہ پیدا ہو جائے لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ حقیقی مومن کو علم کے حصول کی بھی کوشش کرنی چاہئے اور یہ صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں اور حتی الوسع اپنے علم کو بڑھانے کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے۔پس ایک تو وہ علم ہے جو کہ انبیاء کو خدا تعالیٰ دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا لیکن ساتھ ہی یہ دعا بھی سکھائی کہ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔اور دوسرے وہ علم ہے جو روحانی اور دنیاوی دونوں طرح کا ہے جس کے لئے ایک مومن کو محنت کرنی چاہئے اور ساتھ ہی دعا بھی کرنی چاہئے۔اگر علم کے حصول کے لئے محنت کی ضرورت نہیں تھی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا بے معنی ہے کہ علم حاصل کرو خواہ صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں اور اس کے لئے سفر کرنے پڑیں۔لیکن علم کے حصول کے لئے صلاحیتیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتیں۔اس لئے دعا بھی سکھائی کہ صرف اپنے پر بھروسہ نہ کرو بلکہ علم کے حصول کے لئے دعاؤں سے بھی خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کرو اور پھر جب یہ کوشش ہو گی تو ہر ایک اپنی اپنی استعدادوں اور وسائل کے لحاظ سے علم حاصل کرے گا۔دماغی صلاحیتیں بھی خدا تعالیٰ نے ہر ایک کی مختلف رکھی ہیں۔بچپن کی تربیت، اٹھان اور معاشرے کا بھی انسان پر اثر ہوتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے بھی درجے مقرر فرمائے ہیں۔ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے لحاظ سے علم حاصل کرے اور اس کے لئے کوشش کرے تو تب ہی تمہارے اندر وسعت پیدا ہوگی۔اللہ تعالی نے اس کے در جے مقرر فرما دیتے ہیں۔یہ نہیں کہ کم ذہنی صلاحیتوں جو علم کی کمی کی وجہ سے یا قدرتی طور پر کسی میں ہیں یا ماحول کے اثر کی وجہ سے علم میں کمی ہے۔اُسے بھی اسی طرح مکلف کرے جتنا اعلی ذہنی اور علمی صلاحیتوں والے کو اور جسے دینی اور دنیاوی علم حاصل کرنے کے تمام تر مواقع 438