نُورِ ہدایت — Page 440
علماء کا ذکر نہیں ہورہا جو نام نہاد اور سطحی علماء ہیں۔سطحی علم حاصل کر کے اپنے علم سے دوسروں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ لوگ جو جوں جوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے علم میں اضافہ ہوتا دیکھتے ہیں توں توں وسعت علمی اور خدا کی ذات کا ادراک انہیں ہوتا جاتا ہے اور در جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے تیرے دیدار کا کا حقیقی مفہوم انہیں سمجھ آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے نا کہ ع جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے تیرے دیدار کا سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 52) یہ حقیقی مفہوم ہے جو ایک عالم کو سمجھ آتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے اور تب پتہ چلتا ہے کہ علمی لحاظ سے لا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کا حقیقی مطلب کیا ہے۔دوسری بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس سے میں نے اخذ کی، جو آپ نے بیان فرمائی کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر واضح فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی عقیدے پیش کرتا ہے جن کا سمجھنا انسان کی حد استعداد میں داخل ہے تا اس کے حکم تکلیف مالا يُطاق میں داخل نہ ہوں۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام - سورۃ البقرۃ آیت 287۔جلد اول صفحہ 775) یعنی طاقت سے بڑھ کر نہ ہوں۔اس آیت سے پہلی آیت میں خدا تعالیٰ نے مومنوں کے بارے میں یہ بھی فرمایا، ایمان کی حالت کے بارے میں، عقیدہ کے بارہ میں کہ امن بالله وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ (البقر 2868) یعنی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اس کے فرشتوں پر ایمان رکھتے ہیں، اس کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ایک دوسری جگہ فرمایا کہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔اس بارہ میں ایک حدیث بھی ہے جو حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اس نے آکے مختلف سوال کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا اور گھٹنے ملا کر 440