نُورِ ہدایت — Page 437
بخشش والا بعض غلطیاں اور گناہ غیر ارادی طور پر کرلے تو اُس کا کام ہے کہ استغفار کرتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرے اور نیکیوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے۔ان اعمال کو بجالانے کی کوشش کرے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے ایک جدو جہد کرے تو خدا تعالیٰ جو وسیع تر رحمت والا ہے اور وسیع تریجی ہے اپنے بندے کی طرف بخشش اور رحم کی نظر سے متوجہ ہوتا ہے۔پس یہ خوبصورت تعلیم ہے جو قرآن کریم نے ہمیں دی ہے۔جس کے لئے کسی کفارہ کی ضرورت نہیں ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے۔اس کا کیا مطلب ہے کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔اور یہ کس طرح اور کن کن باتوں پر حاوی ہوتا ہے۔وہ کون کون سی حالتیں ہیں جہاں انسان اپنے اعمال کا مکلف نہیں اور کہاں وہ قابل مواخذہ ہوگا۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت علمی سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔گو یہاں یہ تو پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی وسعت علمی سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔لیکن ساتھ ہی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه 115) اب یہ دعا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی گئی جن کو ایسا علم دیا گیا تھا جو قیامت تک کے علوم پر حاوی ہے اور جو قرآن کریم نازل ہورہا تھا خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ کیا کیا علم و عرفان کے خزانے آپ پر نازل ہونے ہیں۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرآن کریم کے نازل ہونے کے بارہ میں جلدی سے کام نہ لو بلکہ یہ دعا کئے جا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ علم میں ترقی دیتا رہے تاکہ علم و عرفان کا جو سمندر اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے میں موجزن فرمایا تھا، اس میں وسعت پیدا ہوتی چلی جائے۔اور جب قرآن کریم نازل ہو گیا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی۔تو آپ کے ماننے والوں کو اس دعا کی کس قدر ضرورت ہے اور اپنے علم کو وسعت دینے کی کس قدر ضرورت ہے۔اس کے لئے آپ نے اپنی امت کو نصیحت بھی کی ہے کہ علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمہیں چین تک جانا پڑے۔(کنز اعمال کتاب العلم من قسم الاقوال باب اول في الترغیب فیہ جلد 5 جزء خامس صفحہ 60 حدیث نمبر 28693 ایڈیشن 2004، بیروت) 437