نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 423 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 423

نے چونکہ بتایا ہوا ہے کہ میں مومنوں کا امتحان لیا کرتا ہوں اس لئے مومن یہ نہیں کہتا کہ خدایا میرا امتحان نہ لے بلکہ وہ کہتا ہے خدا یا امتحان تو لیجیومگر ایسانہ لیجیو کہ میری طاقت سے بڑھ کر ہو۔غرض جو حصہ ناراضگی کا تھا وہاں تو کہہ دیا کہ میں ذراسی ناراضگی بھی برداشت نہیں کر سکتا مگر جہاں دنیوی تکالیف اور ابتلاؤں کا ذکر تھا وہاں کہہ دیا کہ خدایا ! تکالیف تو آئیں مگر ایسی نہ ہوں جوہماری طاقت سے بڑھ کر ہوں۔پھر فرمایا وَاعْفُ عَنَّا اے خدا ہم سے عفو کر۔یہ نسینا کے مقابلہ میں ہے۔یعنی جو کام ہمیں کرنے چاہئیں تھے چونکہ ہم نے نہیں کئے اس لئے ہمیں تو معاف فرمادے۔وَاغْفِرْ لَنَا اور جو غلط کام ہم کر چکے ہیں اُن کے خمیازہ سے ہمیں بچالے اور ان کاموں کو نہ کئے کی طرح کر دے۔عفو کے معنی رحم کے بھی ہوتے ہیں اور جو چیز کسی انسان سے رہ جائے اس کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ مہیا کر دی جائے۔اس لئے وَاعْفُ عَنَّا کے یہ بھی معنی ہیں کہ جو چیز رہ گئی ہے اُس کو تو اپنے فضل اور رحم سے ہمیں مہیا فرما دے۔اس کے مقابلہ میں جو کام غلط ہو جائے اس کی درستی اسی طرح ہو سکتی ہے کہ اس کو مٹا دیا جائے۔چنانچہ اخطانا کے مقابلہ میں اغفر لنا رکھ دیا۔اور غفر کے معنی عربی زبان میں مٹا دینے کے ہی ہوتے ہیں۔پس اس کے معنی یہ ہیں کہ اے خدا جو کام ہم غلط طور پر کر چکے ہیں اُن کو مٹادے اور انہیں نہ کئے کی طرح کر دے۔گویا ایک طرف تو یہ کہ دیا کہ جو کام ہم نے نہیں کیا اور اس طرح رخنہ واقع ہو گیا ہے اس رخنہ کو تو اپنے فضل سے پُر کر دے اور دوسری طرف یہ کہہ دیا کہ جو کام ہم غلط طور پر کر چکے ہیں اُن کو تو مٹا ڈال۔وارحمنا پھر اس کام کے نتیجہ میں ہم سے جو اور غلطیاں ہوئی ہیں اور جن ترقیات کے حصول میں روک واقع ہو گئی ہے ان غلطیوں کے متعلق بھی ہم پر رحم فرما۔اور ہماری ترقیات کے راستہ میں جو روکیں حائل ہو گئی ہیں اُن کو اپنے فضل سے دُور کر دے۔أَنتَ مَوْلنا تو ہمارا مولیٰ ہمارا آقا اور ہمارا مالک ہے۔آخر ہماری کمزوریاں کسی نہ کسی 423