نُورِ ہدایت — Page 424
رنگ میں لوگوں نے تیری طرف ہی منسوب کرنی ہیں۔لوگوں نے یہی کہنا ہے کہ یہ خدائی جماعت کہلاتی تھی مگر اسے بھی دکھ پہنچا۔اور اسے بھی دوسروں کی طرح تکلیف ہوئی۔پس اے ہمارے مولیٰ تو ہمارا آقا ہے اور ہم تیرے خادم ! تُو آ قا ہونے کے لحاظ سے ہم پر رحم کر کیونکہ ہماری کمزوریاں آخر تیری طرف ہی منسوب ہوں گی اور لوگ ہدایت سے محروم ہو جائیں گے۔احادیث میں آتا ہے کہ غزوہ اُحد میں جب ابو سفیان نے بڑے زور سے کہا کہ لَنا عُری و لا عُرى لَكُمْ یعنی ہماری تائید میں ہمارا عرب ہی بہت ہے مگر تمہاری تائید میں کوئی بت نہیں۔تو اُس وقت رسول کریم علیم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم کہو۔لَنَا مَوْلى وَلَا مَوْلى لَكُمْ۔ہمارا والی اور ہمارا مددگار ہمارا حتی وقیوم خدا ہے مگر تمہارا کوئی والی اور مددگار نہیں۔یہ آنت مولنا کی سچائی کا کیسا عملی ثبوت تھا کہ تلواروں کے سایہ میں بھی انہوں نے یہی کہا کہ اللہ ہمیں بچا سکتا ہے۔آخر میں یہ تعلیم دی کہ تم خدا تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرتے رہو کہ فَانُصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ یعنی اے خدا ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔ہم بے بس اور کمزور ہیں لیکن ہمارا دشمن طاقتور اور تعداد میں بہت زیادہ ہے۔ہمارا غلبہ صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ تو ہمارے ساتھ ہو اور اپنے رحم اور کرم سے کام لے کر ہمارے ایک ایک آدمی کے اندر ایسی روح پھونک دے کہ وہ سوسو بلکہ ہزار ہزار مخالف پر بھی بھاری ہو۔اگر تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرما دے تو ہم بچ سکتے ہیں ورنہ ہمارے بچاؤ کی اور کوئی صورت نہیں۔پس اے ہمارے رب ! جولوگ ایسے کام کر رہے ہیں جن سے اسلام کی ترقی میں روک واقع ہوتی ہے اُن پر تو ہمیں غالب کر اور ایسے سامان پیدا فرما جو تیری تبلیغ اور تیرے نام کو دنیا میں پھیلانے کا باعث ہوں۔پھر یہ دعا صرف مادی غلبہ کے لئے ہی نہیں بلکہ روحانی رنگ میں بھی دشمنوں پر غالب آنے کے لئے ایک عاجزانہ پکار ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کے حضور یہ عرضداشت پیش کی گئی ہے کہ اے ہمارے رب ! اگر ہمارے اندر تیرے اس پاک رسول پر ایمان لانے کے نتیجہ میں 424