نُورِ ہدایت — Page 422
انسان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو جب کسی کو دوسرے سے محبت ہوتی ہے تو اس کی معمولی سے ناراضگی کو دیکھ کر ہی اس کا دل بے چین ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ کہتا ہے اُس نے مجھ سے اچھی طرح باتیں نہیں کیں۔بعض دفعہ کہتا ہے اُس نے مجھ سے باتیں تو کیں مگر اُن میں بشاشت معلوم نہیں ہوتی تھی اور اس بات کا اُس کی طبیعت پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ عمگین ہو جاتا ہے۔پس اس سے یہ مراد نہیں کہ ہمیں بڑی سزا نہ دیجیو چھوٹی سزاد یجیو بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں کوئی سزاد یحیٹو ہی نہیں نہ چھوٹی نہ بڑی۔پھر دنیا میں بعض مصائب ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر قصور کے آ جاتے ہیں۔قصور ہمسایہ کا ہوتا ہے اور دکھ اُسے پہنچ جاتا ہے۔قصور دوست کا ہوتا ہے اور سزا کا اثر اس پر آپڑتا ہے۔اس لئے جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ دعا سکھلائی کہ تم یہ کہا کرو کہ ہم سے ایسی خطا یا نسیان نہ ہو جائے جس کی وجہ سے ہم تیری سزا کے مستحق ہو جائیں۔وہاں دوسری دعا یہ سکھلائی کہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ۔اے خدا ایسا نہ ہو کہ قصور تو ہمارے ہمسایہ کا ہو اور سزا ہمیں مل جائے۔یا قصور دنیا کا ہو اور اس کی مصیبت کا اثر ہم پر آپڑے۔مگر یہاں ایک شرط بڑھا دی اور وہ یہ ہے کہ مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ اِس شرط کو اس لئے بڑھایا گیا ہے کہ یہاں ناراضگی کا سوال نہیں بلکہ دنیوی مصائب اور ابتلاؤں کا ذکر ہے۔ناراضگی بے شک چھوٹی بھی برداشت نہیں ہو سکتی مگر چھوٹی تکلیف برداشت کر لی جاتی ہے۔پس جہاں روحانی سزا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ذکر تھا وہاں تو یہ دعا سکھلائی کہ ہم میں تیری کسی ناراضگی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں وہ ناراضگی چھوٹی ہو یا بڑی۔مگر جب دنیوی تکالیف کا ذکر آیا تو یہ دعا سکھلائی کہ چھوٹے موٹے ابتلاؤں پر مجھے اعتراض نہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ میرا قدم ہمیشہ پھولوں کی سیج پر رہے۔البتہ وہ ابتلاء جو تیری ناراضگی کا موجب نہیں اور جودنیا میں عام طور پر آیا ہی کرتے ہیں اُس کے متعلق میری صرف اتنی درخواست ہے کہ کوئی ابتلاء ایسا نہ ہو جو میری طاقت سے بالا ہو۔یہ مطلب نہیں کہ مومن ایسے ابتلاء خود چاہتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ 422