نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 272 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 272

تمہاری کیا خصوصیت ہے جو ہم تمہیں اختیار کریں۔دکانوں والے اپنی دکانوں کے سامنے سائن بورڈ لگادیا کرتے ہیں اور وہ اس پر اپنی اپنی خصوصیات لکھ دیتے ہیں ، کوئی لکھتا ہے کہ یہاں سے مال عمدہ اور ارزاں ملے گا۔کوئی لکھتا ہے یہاں سے دیسی مال مل سکتا ہے۔کوئی لکھتا ہے کہ یہاں سے اعلیٰ درجہ کا اور دیر پاولایتی مال ملے گا۔غرض اسی طرح ہر ایک کوئی نہ کوئی اپنی خصوصیت لکھ دے گا۔گاہک بھی کسی خصوصیت کی وجہ سے ہی وہاں آئے گا۔اسی طرح مذاہب میں جھگڑا ہے۔ہر ایک اپنے آپ کو سچا کہتا ہے۔اسلام میں کون سی خوبی ہے کہ جو یہ ایک نیا مذہب پیش کیا جاتا ہے۔کوئی ایسی خوبی ہونی ضروری ہے جو پہلے مذاہب میں سے کسی ایک میں بھی نہ ہو۔اگر پہلے میں کوئی فرق نہ ہو تو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنا مذہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو۔قرآن کریم کے شروع میں ہی اس سوال کو حل کر دیا ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔تمام مذاہب کی آخری بات اور آخری معیار یہ ہے کہ وہ انسان کو متقی بنا دیتے ہیں۔ہندو ہو یا عیسائی، یہودی ہو یا کوئی اور، یہ سب یہی کہتے ہیں کہ ہمیں مان لو تو پاک ہو جاؤ گے۔مگر ہم کہتے ہیں کہ اس کا ثبوت کیا ہے۔سب مذاہب والے یہی کہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ تمہیں آخرت کو چل کر معلوم ہو جائے گا، فی الحال تمہارے لئے مان لینا ہی کافی ہے۔قبول کر لینے کی غرض تو یہ ہے که مولی راضی ہو جاوے۔آخرت میں جا کر اگر معلوم ہوا کہ یہ راہ جس پر ہم چلتے تھے وہ غلط تھی تو اس وقت پھر کیا فائدہ ہوگا۔وہاں سے تو انسان واپس نہیں آسکتا کہ واپس آکر دوسرا صحیح طریق اختیار کر لیوے۔قرآن کریم کا دعوی ہے کہ میں صرف متقی ہی نہیں بنا دیتا بلکہ میں ہدایت دیتا ہوں اور ایک دروازہ کھول دیتا ہوں جس سے متقی بننے کے ثمرات سے اسی دنیا میں متمتع ہو سکتے ہیں اور پھر متقی سے آگے جو بلند درجات ہیں وہ حاصل ہوتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ مثلاً کوئی اعلیٰ افسر ہو اور ایک آدمی اس کو ملنا چاہتا ہو تو اس آدمی کو ایک آدمی تو کہتا ہے اس کے دروازے تک میں پہنچا سکتا ہوں اور دوسرا ایک آدمی ہے جو 272