نُورِ ہدایت — Page 273
اسے کہے کہ میں آپ کو اندر اس کے پاس پہنچا سکتا ہوں اور اس سے ملاقات کروا سکتا ہوں۔تو وہ دونوں میں سے کس کی بات مانے گاوہ اس کی بات مانے گا اور اسی کے ساتھ ہولے گا جو اسے اس کے ساتھ ملا دینے کا وعدہ کرتا ہے اور اندر لے جائے گا۔تمام مذاہب کا دعوی یہی ہے کہ ہم دروازے تک پہنچا دیں گے مگر اسلام صرف یہی دعوی نہیں کرتا کہ میں دروازے تک پہنچادوں گا بلکہ وہ اندر لے جانے کا دعویٰ کرتا ہے اور خدا سے ملا دینے کا وعدہ کرتا ہے۔اسلام پر چلنے سے تمہیں اسی دنیا میں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تم پر راضی ہے۔منتقی جو اپنی طرف سے تمام نیک اعمال میں کوشش کرتا ہے اور تمام کاموں میں اللہ کی خشیت مدنظر رکھتا ہے ، اپنی کوشش ختم ہونے کے بعد پھر یہی باقی رہ جاتا ہے کہ دوسری طرف سے کوشش شروع ہو جاتی ہے۔پس اپنی طرف سے انتہائی کوشش کر کے جو اسلام کے دروازے تک پہنچ جاتے ہیں یہ کتاب انہیں محبوب سے ملا دیتی ہے۔ہر زمانے میں اسلام میں مجد داور امام آتے رہے ہیں اور تمام مذاہب میں سے کسی ایک میں ایسا نہیں پایا جا تا۔کوئی آدمی کسی کی دکان میں جائے تو اگر وہ اپنی مطلوبہ چیز اس دکان میں نہ پائے تو وہ وہاں داخل نہیں ہوتا جس دکان میں اس کی مطلوبہ چیز پائی جائے گی وہ اسی دکان میں داخل ہوگا۔تمام مذاہب نے خدا کے حضور پہنچادینے سے انکار کیا ہے۔صرف اسلام کا ہی یہ دعویٰ ہے کہ وہ خدا کے حضور پہنچا دیتا ہے اس کی تصدیق ہم دیکھتے ہیں ہر زمانے میں ہورہی ہے اور ہرزمانہ میں خدا کی طرف سے مخلوق کی ہدایت کے لئے اس کے بندے آتے رہتے ہیں۔کوئی آدمی اگر ایسا ہے کہ وہ بی۔اے کو پڑھا سکے تو وہ الف با بھی پڑھا سکتا ہے۔ای طرح هدی للمتقین سے مراد یہ ہے کہ یہ اعلی درجہ تک پہنچا سکتا ہے تو کیا ادنی درجہ کے لوگوں کو ادنی باتیں یہ نہیں سمجھا سکتا اور ان کو ہدایت نہیں دے سکتا۔اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو دعوئی میں بھی بڑھ گیا اور یہی لوگوں کی غرض کو پورا کرنے والا ہے اسی وجہ سے تمام مذاہب پر فائق ہے۔( خطبات محمود سال 1914 صفحہ 22 تا25) حضرت خلیفہ المسح الثانی نے خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1914 میں سورہ بقرہ کے 273