نُورِ ہدایت — Page 271
حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 1914 میں سورہ بقرہ کی آیات 2 تا 6 کی تلاوت کی اور فرمایا : یہ کتاب هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہے۔یہ کتاب متقیوں کو ہدایت دیتی ہے۔متقی کون لوگ ہیں؟ متقی وہ لوگ ہوتے ہیں جو لوگ ایمان بالغیب رکھتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے رستے میں خرچ کرتے ہیں اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کتابیں قرآن کریم سے پہلے اتریں اور جو اس کے بعد الہام ہوں گے ان پر اور قیامت پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔متقیوں کو یہ کتاب راستہ دکھلاتی ہے۔اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کتاب جو پہلے ہی سے متقی ہے اس کو تو راستہ دکھلاتی ہے لیکن دیگر عوام الناس کے لئے پھر کون سی تعلیم ہے جو ان کی رہنمائی کرے، کتاب تو وہ چاہئے جو سب کی یکساں راہ نمائی کرے۔اس قسم کے اعتراض کرنے والوں نے تدبر سے کام نہیں لیا۔اگر وہ سوچتے تو ان کو معلوم ہو جا تا کہ ہر ایک انسان جب اس سے پوچھا جائے کہ آپ کیا ہیں تو وہ اپنا اعلیٰ سے اعلیٰ دعویٰ ہی پیش کرے گا نہ کہ پہلے ادنی درجوں کو گننے بیٹھ جائے اور بعد میں بتلائے کہ میں یہ ہوں۔مثلاً اگر کوئی کسی تحصیلدار سے سوال کرے کہ آپ کون ہیں؟ تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ میں پہلے پٹواری یا گرد اور تھا۔پھر نائب تحصیلدار پھر اب تحصیلدار ہوں بلکہ وہ یہی کہے گا کہ میں تحصیلدار ہوں۔اسی طرح جب کوئی کسی ڈاکٹر سے سوال کرے کہ آپ کون ہیں تو کیا وہ پہلے یہ کہے گا کہ میں نے پہلے پرائمری پھر مڈل پھر انٹرنس پاس کر کے پھر میں نے ڈاکٹری کی جماعت پڑھی اور اب میں ڈاکٹر ہوں۔اسی طرح اگر کوئی ایم۔اے سے پوچھے تو وہ پہلے ہی آپ کو ایم۔اے بتلائے گا نہ کہ جماعتیں گنے بیٹھے گا۔اسی طرح قرآن کریم کی تعلیم ہے۔یہ ہر ایک کو ہدایت دے سکتی ہے خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا یا کسی طرح کا ہو۔میدان مذاہب میں اسلام نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔اس پر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ 271