نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 270 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 270

چھوڑ دیتے ہیں اور شیطان یا اس کے چیلوں کی پیش کی ہوئی گمراہی کی باتوں کو قبول کر لیتے ہیں اور اس طرح ہدایت کورڈ کر کے ضلالت کو اختیار کرنے والے ہو جاتے ہیں۔فَمَارَ بِحَت تجارتهم - چونکہ کفار نے ایک چیز چھوڑ دی اور دوسری اس کے بدلہ میں لے لی اس لئے اس کا نام تجارت رکھا گیا ہے۔فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے خیال میں ایک مفید تجارت کی ہے کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نیک فطرت کو ترک کر کے بُری باتوں کو اختیار کر لیا ہے۔یا خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم کو چھوڑ کر شیطانی باتوں کو اختیار کر لیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ بہت فائدہ اٹھائیں گے۔لیکن انہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ وہ نقصان اٹھائیں گے اور یہ سودا انہیں بہت مہنگا پڑے گا۔وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ یہ نتیجہ پہلے نتیجہ کے علاوہ ہے۔اس میں بتایا ہے کہ ان کو صرف یہی نقصان نہیں ہوگا کہ وہ دنیا میں ذلیل ہوں گے اور نقصان اٹھائیں گے۔بلکہ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ وہ ہدایت سے محروم رہیں گے اور ان کی عاقبت بھی خراب ہوگی۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر فعل کے دو نتیجے نکلتے ہیں۔ایک نتیجہ تو اس فعل کے ساتھ ہی نکلتا ہے اور دوسرا اس کے بعد پیدا ہوتا ہے۔مثلاً ایک انسان چوری کرتا ہے تو اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ وہ ذلیل ہو جاتا ہے اور پکڑا جاتا ہے اور قید ہوتا ہے یا اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے یا اور کوئی سزا پاتا ہے۔دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہدایت کے قبول کرنے کی قابلیت اس میں سے جاتی رہتی ہے اور وہ ہدایت سے دُور ہو جاتا ہے۔اسی طرح ہر نیکی کا نتیجہ اس کے ساتھ ہی نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔مثلاً اس نیکی کی وجہ سے اس کے اپنے دل میں خوشی پیدا ہوتی ہے اور لوگوں میں اس کی عزت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اسے اچھا خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ہدایت قبول کرنے کی قابلیت بڑھتی جاتی ہے اور وہ ہدایت میں ترقی کرتا جاتا ہے۔وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دوسرا نقصان انہیں یہ پہنچا کہ وہ ہدایت سے دور ہی دور ہوتے چلے گئے ہیں۔ماخوذ از تفسیر کبیر از حضرت خلیفة المسیح الثانی) 270