نُورِ ہدایت — Page 269
خریدلیا ہے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ ان لوگوں کے سامنے ہدایت اور ضلالت دونوں پیش کی گئی تھیں۔انہوں نے ضلالت اختیار کر لی اور ہدایت ترک کر دی۔پہلے معنوں کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو فطرت صحیحہ عطا کی ہے۔اور اسے بہترین قومی دتے ہیں۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (روم (31) اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (تین5) کہ ہم نے انسان کو بہترین طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسے اعلیٰ قومی دتے ہیں۔پھر اس کے بعد وہ اپنی یا اپنے والدین کی خرابیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے فطرت صحیحہ اور پاک قویٰ سے محروم ہو جاتا ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَا مِن مَوْلُودٍ إِلَّا يُوَلِّدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوهُ يُهَوْدَانِهِ أَوْ يُجْسَانِهِ أَوْ يُنيَّرَانِهِ مسلم) جلد 4 کتاب القدر) کہ بچہ تو فطرۃ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اس کے بچپن سے فائدہ اٹھا کر اسے اپنے دین پر کر لیتے ہیں اور اسے یہودی یا مجوسی یا عیسائی بنا لیتے ہیں گویا وہ ان کی فطرتی ہدایت کو قربان کر دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں اسے گمراہی خرید دیتے ہیں۔یا پھر وہ بڑا ہو کر خود اپنی اچھی طاقتوں کو بُرے طریق پر استعمال کر کے خراب کر لیتا ہے۔پس اس جگہ ہدایت سے وہ فطرتی نیک طاقتیں مراد ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہیں۔اور اشتری کا مطلب یہ ہے کہ شریر لوگ ان پاک ٹوٹی کو جو اُن کی ترقی کے لئے ان کو دیئے گئے تھے بُرے مواقع پر استعمال کر کے ان سے گمراہی اور ضلالت خرید لیتے ہیں اور دینی اور دنیوی دونوں فائدوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔دوسرے معنوں کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی کے امتیاز کی مقدرت اور اختیار دیا ہے۔دوسری طرف نبیوں کے ذریعہ اس کے پاس نیکی کی تعلیم اور ہدایت بھیج دیتا ہے مگر ساتھ ہی شیطان اپنی بُری تعلیم اس کے سامنے پیش کرتے ہیں۔جولوگ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے کام نہیں لیتے وہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کو 269