نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 238 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 238

کبھی بھی خالی صلوا کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔یہ امر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اصل حکم یہ ہے کہ فرض نماز کو باجماعت ادا کیا جائے اور بغیر جماعت کے نما ز صرف مجبوری کے ما تحت جائز ہے۔جیسے کوئی کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو اُسے بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے۔پس جس طرح کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہولیکن بیٹھ کر پڑھے تو یقیناً وہ گنہگار ہوگا اسی طرح جسے باجماعت نماز کا موقع مل سکے مگر وہ باجماعت نماز ادا نہ کرے تو وہ بھی گنہگار ہوگا۔(6) يُقِيمُونَ الصَّلوة کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ نماز چستی اور ہوشیاری سے ادا کی جائے کیونکہ سستی اور غفلت کی وجہ سے خیالات میں پراگندگی پیدا ہوتی ہے اور نماز کا مغز ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں لاتیں ڈھیلی چھوڑنے یا سہارا لگانے (مسلم جلد اول كتاب الصلوة باب كراهة الاختصار في الصلوة) يا کہنیاں سجدہ کے وقت زمین پر ٹیکنے سے منع فرمایا ہے (ترمذی ابواب الصلوۃ باب ماجاء في الاعتدال في السجود) اور اس کے بالمقابل رکوع میں کمر سیدھی رکھنے (ترمذی ابواب الصلوة باب ماجاء فی من لایقیم (صلبه) کھڑا ہوتے وقت یا رکوع میں ٹانگوں کو سیدھا رکھنے ،سجدہ میں پاؤں ، گھٹنوں ہتھیلیوں اور ماتھے پر بوجھ رکھنے (ترمذی کتاب الصلوۃ باب ماجاء في السجود على سبعة اعضاء) اور کمر اور پیٹ کو لاتوں سے جدا رکھنے (نسائی کتاب افتتاح الصلوة باب صفة السجود و التجافى السجودو الاعتدال فی السجود) اور قعدہ کے موقع پر دائیں پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھ کر پاؤں کھڑا رکھنے کا حکم دیا ہے (ترمذی ابواب الصلوۃ باب ماجاء كيف الجلوس التشهد) کیونکہ یہ سب امور چستی اور ہوشیاری پیدا کرتے ہیں اور نیند اور اُونگھ اور غفلت کو دور کرتے ہیں اور اسی وجہ سے اسلام نے نماز سے پہلے وضو کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ سر اور جوارح کے اعصاب کوتری اور سردی پہنچ کر جسم میں چستی اور خیالات میں یکسوئی پیدا ہو۔اوپر جو معانی یقیمُونَ الصَّلوةَ کے لغوی معنوں سے استنباط کر کے لکھے گئے ہیں قرآن کریم اور احادیث سے بھی ان کی تصدیق ہوتی ہے۔238