نُورِ ہدایت — Page 237
خیال بنائے رکھتی ہیں اور بعض اوقات وہ نماز کے مضمون کو بھول کر دوسرے خیالات میں پھنس جاتا ہے۔اس حالت کی نسبت يُقِيمُونَ الصَّلوۃ میں اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ بعض نمازیوں کو یہ مشکل پیش آئے گی مگر انہیں گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر درجہ کے انسان کے لئے ترقی کا راستہ کھول دیا ہے۔اگر کوئی شخص اپنی نماز میں ایسی پریشان خیالی سے دو چار ہو تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہئے اور اپنی نماز کو بریکار نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں سے اُسی قدر قربانی کی امید کرتا ہے جتنی قربانی اُن کے بس کی ہو۔پس ایسے نمازی جن کے خیالات پراگندہ ہو جاتے ہوں اگر نماز کو سنوار کر اور توجہ سے پڑھنے کی کوشش میں لگے رہیں تو چونکہ وہ اپنی نماز کو جب بھی وہ اپنے مقام سے گرے کھڑا کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی نماز کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ اُسے قبول کرے گا اور اس نماز کو کھڑا کرنے کی کوشش کرنے والے کو متقیوں میں ہی شامل سمجھے گا۔(4) يُقِيمُونَ الصَّلوة کے ایک اور معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ متقی دوسرے لوگوں کو نماز کی ترغیب دیتے ہیں کیونکہ کسی کام کو کھڑا کرنے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ اسے رائج کیا جائے اور لوگوں کو اس کی ترغیب دلائی جائے۔پس يُقِيمُونَ الصَّلوة کے عامل متقی وہ بھی کہلائیں گے کہ جو خود نماز پڑھنے کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی نماز کی تلقین کرتے رہتے ہیں اور جوست ہیں انہیں تحریک کر کے چست کرتے ہیں۔رمضان کے موقع پر جولوگ تہجد کے لئے لوگوں کو جگاتے ہیں وہ بھی اس تعریف کے ماتحت يُقِيمُونَ الصَّلوة کی تعریف میں آتے ہیں۔(5) نماز با جماعت سے پہلے امام کے نماز پڑھانے کے قریب وقت میں اذان کے کلمات تھوڑی زیادتی کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں۔ان کلمات کو اقامة کہتے ہیں اور نماز باجماعت بھی ان معنوں کے رُو سے اقامة الصلوة کا مفہوم رکھتی ہے۔ہمارے ملک میں بھی کہتے ہیں نماز کھڑی ہوگئی ہے۔اس محاورہ کے مطابق يُقِيمُونَ الصَّلوة کے معنے ہوں گے کہ وہ نماز باجماعت ادا کرتے ہیں اور دوسروں سے ادا کرواتے ہیں۔قرآن کریم میں نماز پڑھنے کا جہاں بھی حکم آیا ہے آقِیمُوا الصَّلوة کے الفاظ سے آیا ہے 237