نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 239 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 239

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کا حکم دینے سے کیا فائدہ؟ کیا وہ بندوں کی عبادت کا محتاج ہے؟ تعظیم اور تکریم سے تو نادان انسان خوش ہوا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی ذات کو تو اس سے ارفع ہونا چاہئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عبادت کا فائدہ یہ نہیں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی شان بڑھتی ہے بلکہ عبادت کی غرض اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایسا اتصال پیدا کرنا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ٹور کو اپنے اندر اخذ کر لے۔اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ صرف فکر انسان کے اندر وہ جذ بہ نہیں پیدا کر سکتا جس سے وہ خدا تعالیٰ کی ذات میں اپنے آپ کو محو کرنے کی کوشش کرے۔ایسا جذ بہ تو محبت کامل سے ہی پیدا ہو سکتا ہے اور محبت کامل محسن ہستی کے احسانوں کے کامل انکشاف سے پیدا ہوتی ہے اور نماز اس غرض کو پورا کرتی ہے کیونکہ نماز میں اللہ تعالیٰ کی حقیقی شان کو سامنے لانے کے سامان مہیا کئے جاتے ہیں۔اگر کہو کہ جو انسان خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنا چاہے گا وہ خود ہی اپنے لئے اس کا موقع نکال لے گا اس کے لئے پانچ وقت کی نماز مقرر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض قلت تدبر سے پیدا ہوا ہے۔انسانی طبیعت اس قسم کی ہے کہ اگر باقاعدگی سے اسے اس کے مقصد کی طرف توجہ نہ دلائی جائے تو وہ سستی کرنے لگتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے کمزور اور قوی سب کو اس اعلیٰ مقام تک پہنچانے کے لئے نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ کمزور بھی قوی کے ساتھ مل کر ان مواقع کو پاتے رہیں جو ان کے دلوں کے اندر صفائی پیدا کریں اور قومی ایمان والوں کے دلوں سے نکلنے والی مخفی تاثیرات کو اپنے اندر جذب کر کے صفائی قلب پیدا کرسکیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ پانچ وقت کی نماز کا کیوں حکم دیا گیا ہے حالانکہ اس زمانہ میں مشاغل اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اتنا وقت نمازوں کے لئے نکالنا مشکل ہے؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اگر نماز کی غرض محبت الہی کی آگ بھڑکا کر اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے سہولت بہم پہنچانا ہے تو جس زمانہ میں مشاغل بڑھ 239