نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 226 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 226

کرنے کا موجب ہوتی ہے ورنہ مشاہدہ اور دیدار الہی اُسے اسی دنیا میں میسر آ جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ ایسا مقام ہے جس کے بعد کوئی بے چینی اور شک باقی نہیں رہتا اور ایسا انسان ہر ٹھوکر اور ابتلاء سے محفوظ ہو جاتا ہے اور گویا اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کی گود میں جا بیٹھتا ہے۔پس قرآن کا مومنوں کو قرآن کریم کے ذریعہ سے جنت ملنے کا دعوی کرنا محض ایک بے دلیل دعوی نہیں بلکہ وہ اسے ایک ایسی شہادت کے طور پر پیش کرتا ہے جس کا جھوٹ اور سچ اسی دنیا میں آزمایا جا سکتا ہے۔اور اسلام کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جو اس دعوی کے لئے دلیل کے طور پر تھے اور جن کو اللہ تعالیٰ کا وصال اور دیدار کامل طور پر اسی دنیا میں حاصل ہو گیا اور اسی دنیا میں جنت میں داخل ہو گئے۔یعنی ہر قسم کے شیطانی حملوں سے محفوظ ہو گئے اور ہر قسم کی روحانی نعمتوں سے متمتع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے تازہ بتازہ کلام کو انہوں نے سُنا اور اس سے بالمشافہ انہوں نے باتیں کیں اور اس کے زندہ نشانوں کو انہوں نے اپنی ذات میں دیکھا اور دوسروں کے وجودوں میں انہیں دکھایا۔بعض لوگ اس آیت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر قرآن کریم متقیوں کے لئے ہدایت ہے تو معلوم ہوا کہ متقی پیدا کرنے کے لئے اور کسی کلام یا کتاب کی ضرورت ہے۔سو یادر ہے کہ یہ اعتراض محض قلت تدبر سے پیدا ہوا ہے کیونکہ قرآن کریم تقویٰ پیدا کرنے کا بھی مدعی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقِّ بِهَا وَأَهْلَهَا (الفتح (27) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اپنی کتاب پر ایمان لانے والوں پر سکینت اور اطمینان نازل کیا اور اُن سے تقویٰ کی حقیقت کو وابستہ کر دیا اور مومن بالقرآن ہی حقیقت تقویٰ کے مستحق اور اس کے اہل ہیں۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے ذریعہ سے اور اس پر ایمان لا کر انسان کو کامل تقویٰ میسر آ تا ہے بلکہ ایسا تقویٰ میسر آتا ہے جو دائمی ہوتا ہے۔بلکہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقویٰ کے اہل اور اس کے ساتھ حقیقی تعلق رکھنے والے صرف مومنین قرآن ہیں۔226