نُورِ ہدایت — Page 227
اس آیت کی موجودگی میں یہ اعتراض کرنا کہ گویا قرآن کریم صرف متقیوں کو ہدایت دینے کا دعویدار ہے، تقویٰ پیدا کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا بالبداہت باطل ہے۔اس کے برخلاف قرآن کریم تو اس امر کا مدعی ہے کہ حقیقی تقویٰ صرف قرآن کریم پر ایمان لانے سے پیدا ہوسکتا ہے۔اس آیت کے علاوہ قرآن کریم کی اور بہت سی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم صرف متقیوں کے لیے ہدایت نہیں بلکہ سب بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے خواہ وہ روحانی زندگی میں اعلیٰ مقام پر ہوں یا ادنی پر۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَذَا بَيَانُ لِلنَّاسِ وَهُدًى (آل عمران 139) یہ قرآن تمام انسانوں کے لئے ضروری امور بیان کرتا ہے اور انہیں ہدایت دیتا ہے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآنی ہدایت صرف متقیوں کے لئے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لئے ہے۔اسی طرح ایک اور جگہ قرآن کریم میں ہے هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنت من الهدى (البقرة (186) یعنی قرآن کریم سب انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی تمام اقسام بیان کی گئی ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَلَقَدْ صَرَفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَل (الکھف (55) یعنی اس قرآن میں تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے خواہ متقی ہوں یا غیر متقی ہر بات اعلی سے اعلی پیرا یہ میں بیان کر دی گئی ہے یعنی ہر انسان کی حالت کے مطابق اس میں ایسی تعلیم ہے جو اسے اوپر کے درجہ کی طرف لے جاتی ہے اور اس کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآن مِنْ كُلِّ مَثل (الروم (59) اس آیت کے بھی قریب وہی معنے ہیں جو اوپر کی آیت کے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ پہلی آیت میں صد فنا کہا گیا تھا یہاں ضربنا کہا گیا ہے۔اور صرفنا میں اس امر پر زور ہے کہ مختلف پیرایوں سے اس ہدایت کو بیان کیا ہے۔اور ضربنا میں اس امر پر زور ہے کہ فطرت کی صحیح مثالوں اور واضح نمونوں کے مقابل پر رکھ رکھ کر ہدایت کو بیان کیا گیا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا (بنی اسرائیل (42) یعنی قرآن کریم میں تمام ضروری امور ہدایت مختلف پیرایوں میں بیان کئے گئے ہیں تا کہ لوگ نصیحت 227