نُورِ ہدایت — Page 225
چوتھے معنے ہدایت کے قرآن کریم سے یہ ثابت ہیں کہ انجام بخیر اور جنت حاصل ہو جاتی ہے۔ان معنوں کے رُو سے اس جملہ کے معنے ہوتے ہیں کہ قرآن کریم میں ایسی تعلیم ہے کہ جس کی امداد سے خدا ترس انسان اپنے منزل مقصود یعنی جنت کو حاصل کر لیتا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دعویٰ سب مذاہب ہی کرتے ہیں اور بظاہر اس مضمون میں کوئی جدت یا افضلیت نہیں پائی جاتی۔لیکن جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ اس میں جنت کے حصول کے کیا معنے ہیں تو پھر یہ دعویٰ بالکل جدید اور نرالا ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ جنت کے حصول کے یہ معنے نہیں کہ انسان مرنے کے بعد جنت میں داخل ہو جائے بلکہ مرنے کے بعد کی جنت کا حصول اس دنیا میں جنت کے حصول سے وابستہ ہے۔جسے اس دنیا میں جنت مل جائے صرف اسی کو بعد الموت جنت ملے گی۔چنانچہ فرماتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمن 47) یعنی جو شخص تقویٰ کے بچے مقام پر ہوتا ہے اسے دو جنتیں ملتی ہیں۔ایک اس دنیا میں اور ایک اگلے جہان میں۔اور ایک دوسری جگہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ في هذه آغمی فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ آنمی (بنی اسرائیل (73) یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو یعنی اسے دیدار الہی نصیب نہ ہو وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا اور دیدار الہی یا دوسرے الفاظ میں جنت سے محروم رہے گا۔قرآن کریم کی اس تشریح کو مدنظر رکھتے ہوئے جنت کے ملنے کے معنے صرف یہ نہیں کہ مرنے کے بعد قرآن کریم کا مومن جنت حاصل کرے گا کیونکہ یہ صرف ایک دعوی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن کریم پر ایمان لانے والا اور اس کی روشنی سے فائدہ اٹھانے والا شخص اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہو جاتا ہے اور ایمان بالغیب اس کے لئے ایمان بالمعاینہ ہو جاتا ہے۔وہ صرف عقیدۃ اس امر کو نہیں مانتا کہ اسے مرنے کے بعد جنت مل جائے گی بلکہ اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات کو اس کے لئے ظاہر کرتا ہے اور اپنے وجود کو اس کے سامنے لے آتا ہے یہاں تک کہ وہ موت سے پہلے ہی اپنے آپ کو جنت میں محسوس کرنے لگتا ہے اور جسمانی موت صرف اُس کے مشاہدہ کو زیادہ روشن 225