نُورِ ہدایت — Page 213
پس یہاں مضمون بدل گیا۔اور فرق یہ ہوا کہ بقرہ سے لے کر تو بہ تک تو علمی نقطہ نگاہ سے بحث کی گئی ہے اور سورۃ یونس سے لے کر سورۃ کہف تک واقعات کی بحث کی گئی ہے اور واقعات کے نتائج پر بحث کو منحصر رکھا گیا ہے۔اس لئے فرمایا کہ الر یعنی آنا اللہ آری میں اللہ ہوں جو سب کچھ دیکھتا ہوں اور تمام دنیا کی تاریخوں پر نظر رکھتے ہوئے اس کلام کو تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔غرض ان سورتوں میں رؤیت کی صفت پر زیادہ بحث کی گئی ہے اور پہلی سورتوں میں علم کی صفت پر زیادہ بحث تھی۔میں فی الحال اس جگہ اختصارا اتنی بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حروف مقطعات کے متعلق بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ بے معنی ہیں اور انہیں یونہی رکھ دیا گیا ہے۔مگر ان لوگوں کی تردید خودحروف مقطعات ہی کر رہے ہیں۔چنانچہ جب ہم تمام قرآن پر ایک نظر ڈال کر یہ دیکھتے ہیں کہ کہاں کہاں حروف مقطعات استعمال ہوئے ہیں تو ان میں ایک ترتیب نظر آتی ہے۔سورۃ بقرہ اللہ سے شروع ہوتی ہے۔پھر سورہ آل عمران العمر سے شروع ہوتی ہے۔پھر سورۃ نساء، سورۂ مائدہ، سورہ انعام حروف مقطعات سے خالی ہیں۔پھر سورۃ اعراف المص سے شروع ہوتی ہے اور سورۃ انفال اور براءۃ خالی ہیں۔ان کے بعد سورۃ یونس، سورۃ ہود،سورۃ یوسف، الر سے شروع ہوتی ہیں اور سورہ رعد میں م بڑھا کر المر کر دیا گیا ہے۔لیکن جہاں المص میں ص آخر میں رکھا یہاں مہ کو دسے پہلے رکھا گیا ہے۔حالانکہ اگر کسی مقصد کو مد نظر رکھے بغیر زیادتی کی جاتی تو چاہئے تھا کہ میم کو جوزائد کیا گیا تھار کے بعد رکھا جاتا۔میم کوالڑ کے درمیان رکھ دینا بتاتا ہے کہ ان حروف کے کوئی خاص معنے ہیں اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے اللہ کی سورتیں ہیں۔اور اس کے بعد الر کی۔تو صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ مضمون کے لحاظ سے میم کو رپر تقدم حاصل ہے اور سورۃ رعد جس میں میم اور ر اکٹھے کر دیے گئے ہیں اس میں میم کو رسے پہلے رکھنا اس امر کو واضح کر دیتا ہے کہ یہ سب حروف خاص معنے رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے ان حروف کو جو معنی تقدم رکھتے ہیں ہمیشہ مقدم ہی رکھا جاتا ہے۔سورۃ رعد کے بعد ابراہیم اور حجر میں اگر استعمال کیا گیا ہے لیکن محل، بنی اسرائیل اور کہف میں مقطعات استعمال نہیں ہوئے۔اور یہ سورتیں گویا پہلی سورتوں کے مضامین کے 213