نُورِ ہدایت — Page 214
تابع ہیں۔ان کے بعد سورۃ مریم ہے جس میں کھیعص کے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔سورۃ مریم کے بعد سورۃ طہ ہے اور اس میں طہ کے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔اس کے بعد انبیاء، حج، مومنون ، نور اور فرقان میں حروف مقطعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔گویا یہ سورتیں طہ کے تابع ہیں۔آگے سورہ شعراء طسم سے شروع کی گئی ہے۔گو یاطاء کو قائم رکھا گیا ہے اور ھا کی جگہ س اور میم لائے گئے ہیں۔اس کے بعد سورہ نمل ہے جو طس سے شروع ہوتی ہے اس میں سے میھ کو اڑادیا گیا ہے اور طاء اور اس قائم رکھے گئے ہیں۔اس کے بعد سورۃ قصص کی ابتدا پھر طسم سے کی گئی ہے گویا میم کے مضمون کو پھر شامل کرلیا گیا ہے۔اس کے بعد سورہ عنکبوت کو پھر اللہ سے شروع کیا گیا ہے اور دوبارہ علم الہی کے مضمون کو نئے پیرایہ اور نئی ضرورت کے ماتحت شروع کیا گیا ہے (اگرچہ میں ترتیب پر اس وقت بحث نہیں کر رہا۔لیکن اگر کوئی کہے کہ اللہ دوبارہ کیوں لایا گیا ہے۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سورۃ بقرہ سے الم کے مخاطب کفار تھے اور یہاں سے العد کے مخاطب مومن ہیں ) سورۃ عنکبوت کے بعد سورة روم، سورة لقمان اور سورہ سجدہ کو بھی اللہ سے شروع کیا گیا ہے ان کے بعد سورۃ احزاب۔سبا۔فاطر۔بغیر مقطعات کے ہیں اور گویا پہلی سورتوں کے تابع ہیں۔ان کے بعد سورۃ لیس ہے جس کو لیس کے حروف سے شروع کیا گیا ہے۔اس کے بعد سورۃ طفت بغیر مقطعات کے ہے۔اس کے بعد سورہ ص حرف ص سے شروع کی گئی ہے پھر سورہ زمر حروف مقطعات سے خالی اور پہلی سورۃ کے تابع ہے۔اس کے بعد سورہ مومن لحم سے شروع کی گئی ہے۔اس کے بعد سورہ حم السجدہ کو بھی خم سے شروع کیا گیا ہے۔پھر سورۃ شوری کو بھی ختم سے شروع کیا گیا ہے۔لیکن ساتھ حروف عشق بڑھائے گئے ہیں۔اس کے بعد سورۃ زُخرف ہے اس میں بھی ختم کے حروف ہی استعمال کئے گئے ہیں۔پھر سورۂ دخان، جاثیہ اور احقاف بھی خم سے شروع ہوتی ہیں۔ان کے بعد سورۃ محمد، فتح اور حجرات بغیر مقطعات کے ہیں اور پہلی سورتوں کے تابع ہیں۔سورہ ق حرف ق سے شروع ہوتی ہے اور قرآن کریم کے آخر تک ایک ہی مضمون چلا جاتا ہے۔یہ ترتیب بتا رہی ہے کہ یہ حروف یونہی نہیں رکھے گئے۔پہلے العد آتا ہے پھر المص آتا 214