نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 212 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 212

حروف مقطعات اپنے اندر بہت سے راز رکھتے ہیں۔ان میں سے بعض راز بعض ایسے افراد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کا قرآن کریم سے ایسا گہرا تعلق ہے کہ ان کا ذکر قرآن کریم میں ہونا چاہیئے۔لیکن اس کے علاوہ یہ الفاظ قرآن کریم کے بعض مضامین کے لئے قفل کا بھی کام دیتے ہیں۔کوئی پہلے ان کو کھولے تب ان مضامین تک پہنچ سکتا ہے۔جس جس حد تک ان کے معنوں کو سمجھتا جائے اسی حد تک قرآن کریم کا مطلب کھلتا جائے گا۔میری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جب حروف مقطعات بدلتے ہیں تو مضمون قرآن جدید ہو جاتا ہے۔اور جب کسی سورۃ کے پہلے حروف مقطعات استعمال کئے جاتے ہیں تو جس قدر سورتیں اس کے بعد ایسی آتی ہیں جن کے پہلے مقطعات نہیں ہوتے ان میں ایک ہی مضمون ہوتا ہے۔اسی طرح جن سورتوں میں وہی حروف مقطعات دُہرائے جاتے ہیں وہ ساری سورتیں مضمون کے لحاظ سے ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ہوتی ہیں۔اس قاعدہ کے مطابق میرے نزدیک سورۂ بقرہ سے لے کر سورہ تو بہ تک ایک ہی مضمون ہے اور یہ سب سورتیں اللہ سے تعلق رکھتی ہیں۔سورۃ بقرہ اللہ سے شروع ہوتی ہے۔پھر سورۃ آل عمران بھی اللہ سے شروع ہوتی ہے۔پھر سورہ نساء ،سورہ مائدہ اور سورہ انعام حروف مقطعات سے خالی ہیں اور اس طرح گویا پہلی سورتوں کے تابع ہیں جن کی ابتدا الٹر سے ہوتی ہے۔ان کے بعد سورہ اعراف المص سے شروع ہوتی ہے اس میں بھی وہی اللہ موجود ہے ہاں حرف ص کی زیادتی ہوئی ہے۔اس کے بعد سورۃ انفال اور براء ۃ حروف مقطعات سے خالی ہیں۔پس سورۃ براءة تک الھم کا مضمون چلتا ہے۔سورۃ اعراف میں جوص بڑھایا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرف تصدیق کی طرف لے جاتا ہے۔سورہ اعراف، انفال اور تو بہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی اور اسلام کی ترقی کا ذکر کیا گیا ہے۔سورۃ اعراف میں اصولی طور پر اور انفال اور تو بہ میں تفصیلی طور پر تصدیق کی بحث ہے اس لئے وہاں ص کو بڑھا دیا گیا ہے۔سورۃ یونس سے اللہ کی بجائے الر شروع ہو گیا ہے ال تو وہی رہا اور ھر کو بدل کر د کر دیا۔212