نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 211 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 211

کرتے ہیں جس کے واقعات خاص طور پر اس سورۃ میں بیان کئے گئے ہیں جس کی ابتدا میں وہ حروف آئے ہیں۔خواہ اس لحاظ سے کہ بعثت نبوی کے بعد اتنے عرصہ کے اختتام پر وہ واقعات شروع ہوئے یا اس لحاظ سے کہ اس عرصہ کے اختتام پر وہ واقعات شروع ہوئے۔اگر اس خیال کو درست سمجھا جائے تو یہ بات تو واضح ہے کہ سورۃ بقرہ کے واقعات بعثت کے بعد کے اکہتر سال کے واقعات کا مختصر خاکہ ہیں۔حضرت معاویہ 60 ہجری میں فوت ہوئے ہیں۔اس میں تیرہ سال قبل ہجرت کے شامل کئے جائیں تو یہ 73 ہجری ہوتا ہے۔یزید کی بیعت حضرت معاویہ نے وفات سے ایک دو سال پہلے لی ہے۔چونکہ اسی وقت سے اصل فتنہ شروع ہوا ہے اس لئے ابتدائے اسلام اور ترقی اسلام کا زمانہ اکہتر سال ہوتا ہے اور اسی زمانہ کا نقشہ سورۃ بقرہ میں کھینچا گیا ہے۔دوسری سورۃ مریم ہے اس سے پہلے کھیعص کے الفاظ ہیں جن کی مجموعی رقم 195 ہوتی ہے۔سورۃ مریم میں مسیحیت کی ترقی کا ذکر ہے اور خصوصاً دوسری ترقی کا جو اسلامی ترقی کے بعد ہوئی تھی۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال سے مسیحیت نے دوبارہ سر نکالا ہے۔یہی سال ہے جس میں اسلامی تاریخ میں پہلی دفعہ کوشش کی گئی کہ جس وقت معتصم باللہ مسیحی رومی حکومت کے خلاف لڑ رہا تھا اسے معزول کر کے عباس بن مامون کو خلیفہ مقرر کر دیا جائے اور اس طرح مسیحیوں کے مقابل پر اسلام کو ضعف پہنچایا جائے۔اسی زمانہ کے قریب مسیحیوں نے دوبارہ سپین پر حملہ کر کے اس کے کچھ حصے واپس لے لئے اور اسی زمانہ کے قریب یہ بدبختی کا واقعہ دیکھنے میں آیا کہ خلافت اندلس نے خلافت عباسیہ کے خلاف روما کے عیسائی بادشاہ سے خفیہ معاہدہ کیا اور عباسی حکومت نے شاہ فرانس سے سپین کی اسلامی حکومت کے خلاف دوستانہ تعلقات قائم کئے اور اس طرح اسلامی سیاست میں مسیحیوں کو داخل کر کے مسیحیت کی ترقی اور اسلام کے تنزل کی داغ بیل ڈالی۔میری رائے میں اگر دوسری سورتوں پر بھی غور کیا جائے تو زمانہ کے لحاظ سے کافی روشنی ان مضامین پر پڑے گی۔اب میں حروف مقطعات کے بارہ میں وہ تحقیق لکھتا ہوں جس کی بنیاد حضرت ابن عباس نے اور حضرت علی کے کئے ہوئے معنوں پر ہے اور وہ تحقیق یہ ہے۔211