نُورِ ہدایت — Page 206
امام الصلوۃ بھی ہوتا تھا اور اسی سے لوگ مسائل وغیرہ بھی دریافت کرتے تھے۔اور سورۃ بقرہ میں باقی سب سورتوں سے زیادہ مسائل بیان ہوئے ہیں یہاں تک کہ حضرت ابن العربی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استادوں میں سے ایک اُستاد سے سُنا ہے کہ سورۃ بقرہ میں ایک ہزار حکم ہے اور ایک ہزار مناہی ہے اور ایک ہزار فیصلے اور ایک ہزار خبریں ہیں ( قرطبی) یہ صوفیانہ رنگ کی بات ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ سورۃ بقرہ میں مضامین کی نوعیت اور احکام اسلام کی وسعت اس قدر ہے کہ دوسری سورتوں میں سے کسی میں بھی اس قدر نہیں ہے۔یہ جو آپ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورۃ بقرہ پڑھی جائے اس میں شیطان نہیں آتا اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس سورۃ میں شیطانی وساوس کا ایسارڈ موجود ہے کہ اس پر غور کرنے کے بعد شیطان گھر میں نہیں آ سکتا۔اور یہ جو فرمایا کہ صبح تک شیطان نہیں آتا اس سے اس طرف اشارہ کیا کہ تعلیم خواہ کیسی اعلیٰ ہو جب تک بار بار دہرائی نہ جائے دل پر پورا اثر نہیں ہوتا اور نیک اثر خواہ کس قدر اعلیٰ ہو کچھ عرصہ کے بعد اگر اس کی تجدید نہ کی جائے زائل ہو جاتا ہے۔اور یہ جو فرمایا کہ جو شخص سورۃ بقرہ کی پہلی چار آیتیں اور آیۃ الکرسی اور اس کے ساتھ کی دو آیتیں اور سورۃ بقرہ کی آخری تین آیتیں پڑھے اس کے گھر سے بھی شیطان بھاگ جاتا ہے۔اس سے بھی یہی مراد ہے کہ ان آیتوں میں اسلام کا خلاصہ ہے۔سورہ بقرہ کی پہلی آیتوں میں پاک عملی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔آیتہ الکرسی میں صفات باری کا نہایت لطیف نقشہ ہے اور سورۃ بقرہ کی آخری آیتوں میں دل کو پاک کر دینے والی دُعائیں ہیں اور یہ تین چیزیں یعنی (1) الہی کلام کی تتبع میں نیک اعمال کا بجالانا (2) صفات الہیہ پر غور کرنا ( 3 ) اور ان دونوں باتوں کے ساتھ دعا میں مشغول رہنا اور اپنے آپ کو آستانہ الہی پر گرادینا۔جب اکٹھی ہو جائیں تو انسان کا دل پاک ہو جاتا ہے اور شیطان بھاگ جاتا ہے۔کیا سورۃ فاتحہ کا تعلق تو کلام الہی کا خلاصہ ہونے کے وجہ سے سب ہی سورتوں سے ہے لیکن 206