نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 205 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 205

اس کی مثال اس تھیلی کی سی ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبوںکل نکل کر سارے مکان میں پھیل رہی ہو۔اور جو شخص قرآن سیکھ کر سو جائے اس حالت میں کہ قرآن اس کے اندر ہو اس کی مثال اس تھیلی کی سی ہے جس میں مشک بند پڑا ہو ( ترمذی ابواب فضائل القرآن۔ابن ماجہ نے بھی اس روایت کو جز و اروایت کیا ہے ) ابن مردویہ نے عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ جس گھر میں سورۃ بقرہ کی تلاوت کی جائے اس سے شیطان بھاگ جاتا ہے (ابن کثیر ) اسی طرح دارمی نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت درج کی ہے کہ جو شخص سورۃ بقرہ کی دس آیتیں رات کے وقت پڑھے صبح تک شیطان اس کے گھر میں داخل نہیں ہوتا۔یعنی سورۃ بقرہ کے ابتدا کی چار آیتیں آیتہ الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں اور سورۃ بقرہ سے آخر کی تین آیتیں جو لِلهِ مَا فِي السَّمواتِ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔( یہ آخری رکوع ہے جس میں صرف تین آیتیں ہیں ) ( ابن کثیر ) بظاہر سورتوں کے ذاتی فضائل کا ذکر ایک تعلیم یافتہ آدمی پر گراں گزرتا ہے کیونکہ کسی سورۃ کا صرف سورۃ کے ہونے کے لحاظ سے کوئی خاص اثر رکھنا بے معنی سا معلوم ہوتا ہے لیکن اگر اس امر کو اس نگہ سے دیکھا جائے کہ ہر سورۃ خاص مضمون پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ مضمون ضرور قلب پر کوئی اثر چھوڑتا ہے تو فضائل کا بیان آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سورۃ بقرہ کے یاد کرنے پر ایک نوجوان کو لشکر کا امیر بنا دیا۔اس میں کئی حکمتیں تھیں۔اول آپ نے اس طرح دوسرے لوگوں کے دلوں میں زیادہ سے زیادہ قرآن یاد کرنے اور یادر کھنے کی خواہش پیدا کی۔اسلامی لشکروں کی سرداری مالی لحاظ سے منفعت بخش تھی مگر اپنے روحانی باپ کی خوشنودی کی جو قدر صحابہ کے دل میں تھی اسے صرف محبت کی چاشنی سے واقف لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔دوسرے اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ اس زمانہ میں جوسر دارلشکر ہوتا تھا وہی عام طور پر 205