نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 207 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 207

سورۃ بقرہ کو چونکہ اس کے معا بعد رکھا گیا ہے اس سورۃ کا تعلق سورۃ فاتحہ سے یقیناً سب سے زیادہ ہے۔چنانچہ اول تعلق تو اس کا اس سے یہ ہے کہ جس طرح سورۃ فاتحہ خلاصہ ہے سارے قرآن کریم کا۔اسی طرح یہ سورۃ بھی خلاصہ ہے سب قرآن کا کیونکہ اس میں دلائل و براہین بھی بیان کئے گئے ہیں۔شریعت بھی اور فلسفۂ شریعت بھی۔اور پاکیزگی اور طہارت کے گر بھی بیان کئے گئے ہیں۔اور ابراہیمی دُعا میں آخری موعود کی بعثت کا یہی مقصد بیان کیا گیا ہے۔دوسرا تعلق سورۃ فاتحہ کا سورۃ بقرہ سے یہ ہے کہ اس میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سکھائی گئی تھی اور سورۃ بقرہ کی ابتدا بھی آیت ذلك الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِین سے ہوئی ہے یعنی یہ سورۃ صراط مستقیم کی طرف لے جانے کے مقصد کو پورا کرتی ہے اور فاتحہ کی دُعا کی قبولیت کا ظاہری نشان ہے۔الم چونکہ یہ حروف الگ الگ بولے جاتے ہیں انہیں حروف مقطعات کہتے ہیں جو ایک سے لے کر پانچ کی تعداد تک بعض سورتوں کے شروع میں بیان کئے گئے ہیں۔حروف کی اقسام کے لحاظ سے یہ چودہ حرف ہیں اور ان کی تفصیل یہ ہے ا۔ل۔م۔ص۔رک۔ہی۔ع۔ط۔س۔ح۔ق۔ن۔ان میں سے ق اور نون اکیلا اکیلا ایک سورۃ کے پہلے آیا ہے۔باقی دودویا زیادہ مل کر آئے ہیں۔ان کے معنوں کے بارہ میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے۔بعض نے تو لکھا ہے کہ یہ حروف خدا تعالیٰ کے اسرار میں سے ہیں اس لئے ان کے معنوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے۔بعض نے لکھا ہے کہ ان سے یہ مراد ہے کہ قرآن کریم بھی حروف ہجاء سے بنا ہے مگر پھر بھی معجزانہ کلام ہے۔اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو کیوں عرب انہی حروف سے ایسا ہی کلام نہ بنا لیتے۔بعض نے کہا ہے کہ یہ سورتوں کے نام ہیں۔بعض نے کہا ہے کہ یقسمیں ہیں جو سورۃ کے مضمون پر اللہ تعالیٰ نے کھائی ہیں۔مگرسب مطالب ایسے معمولی ہیں کہ ان کی خاطر حروف مقطعات کا قرآنی سور کے شروع میں رکھنا نظر 207