نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 204 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 204

حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اس سورۃ کا نام سورۃ البقرہ ہے۔اس سورۃ کے نام کے متعلق جو روایات ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں۔ترمذی میں ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ شَى سَنَاهُ وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُوْرَةُ البَقَرَةِ وَفِيهَا آيَةٌ هِيَ سَيْدَةُ أَي القُرْآنِ هِيَ آيَةُ الْكُرْسِى (ترمذی جلد دوم ابواب فضائل القرآن) یعنی ہر چیز کا ایک چوٹی کا حصہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کی چوٹی کا حصہ سورۃ البقرہ ہے اور اس میں ایک ایسی آیت ہے جو قرآن کریم کی سب آیات کی سردار ہے اور وہ آیتہ الکرسی ہے۔یہ سورۃ مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور مختلف وقتوں میں نازل ہوتی رہی ہے اور بعض کے نزدیک اس کی ایک آیت آخری ایام میں حجتہ الوداع کے موقع پر قربانی کے دن نازل ہوئی تھی اور وہ وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ (بقره (282) کی آیت ہے اس سورۃ کی رباء کی آیات ( یعنی سود کے احکام پر مشتمل آیات) قرآن کریم کی آخری زمانہ میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہیں۔ترمذی نے ابوہریرۃ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجوائی۔جو آدمی اس کے لئے چنے گئے آپ نے اُن سے قرآن کریم سنا۔آخر آپ ایک شخص کی طرف متوجہ ہوئے جو ان سب سے چھوٹی عمر کا تھا اور اس سے پوچھا کہ تم کو کتنا حصہ قرآن کریم کا یاد ہے؟ اس نے کہاں فلاں فلاں سورۃ کے علاوہ سورۃ بقرہ بھی یاد ہے۔آپ نے فرمایا کہ کیا سورۃ البقرہ تم کو یاد ہے؟ اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا۔بس تو تم اس لشکر کے سردار مقرر کئے جاتے ہو۔اس پر اس قوم کے سرداروں میں سے ایک شخص نے کہا کہ خدا کی قسم میں سورۃ بقرہ کے یاد کرنے سے صرف اس لئے رکا رہا ہوں کہ کہیں مجھے بعد میں بھول نہ جائے۔یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن سیکھو اور اسے پڑھتے رہا کرو کیونکہ جو شخص قرآن سیکھتا ہے اور پھر اسے پڑھتا رہتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے 204