نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 184 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 184

پڑتے ہیں۔بعض بعض امور میں اس کی مشاقی اُس کو قادر کر دیتی ہے۔نفس کے ساتھ اُس کی مصالحت ہو گئی۔اب وہ ایک بہشت میں ہے لیکن وہ پہلا سا ثواب نہیں رہے گا۔وہ ایک تجارت کر چکا ہے جس کا اب وہ نفع اٹھا رہا ہے لیکن پہلا رنگ نہ رہے گا۔انسان میں ایک فعل تکلف سے کرتے کرتے اُس میں طبعیت کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ایک شخص جوطبعی طور سے لذت پاتا ہے وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اس کام سے ہٹایا جاوے۔وہ طبعاً یہاں سے ہٹ نہیں سکتا۔سو اتقا اور تقویٰ کی حد تک پورا انکشاف نہیں ہوتا وہ ایک قسم کا دعویٰ ہے۔اس کے بعد متقی کی شان میں وَمِمَّا رَزَقُنُهُم يُنفِقُونَ آیا ہے۔یہاں متقی کے لئے ہما کا لفظ استعمال کیا۔کیونکہ اس وقت وہ ایک اعمی کی حالت میں ہے اس لئے کہ جو کچھ خدا نے اُس کو دیا اُس میں سے کچھ خدا کے نام کا دیا۔حق یہ ہے کہ اگر وہ آنکھ رکھتا تو دیکھ لیتا کہ اس کا کچھ بھی نہیں سب خدا کا ہی ہے۔یہ ایک حجاب تھا۔جو اتقا میں لازمی ہے۔اس حالت اتقا کے تقاضے نے متقی سے خدا کے دیئے میں سے کچھ دلوایا۔رسول اکرم نے حضرت عائشہؓ سے ایام وفات میں دریافت فرمایا کہ گھر میں کچھ ہے۔معلوم ہوا کہ ایک دینار تھا۔فرمایا کہ یہ سیرت یگانگت سے بعید ہے کہ ایک چیز بھی اپنے پاس رکھی جاوے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتقا کے درجہ سے گزر کر صلاحیت تک پہنچ چکے تھے۔اس لئے میگا اُن کی شان میں نہ آیا۔کیونکہ وہ اندھا ہے جس نے کچھ اپنے پاس رکھا اور کچھ خدا کو دیا لیکن یہ لازمہ منتقی تھا کیونکہ خدا کے راہ (میں) دینے میں بھی اُسے نفس کے ساتھ جنگ تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ دیا اور کچھ رکھا۔وہاں رسول اکرم نے سب خدا کو دیا اور اپنے لئے کچھ نہ رکھا۔وَما رَزَقْلُهُمْ يُنْفِقُونَ۔رزق سے مُراد صرف مال نہیں بلکہ جو کچھ اُن کو عطا ہوا ، علم ، حکمت، طبابت، یہ (سب) کچھ رزق میں ہی شامل ہے۔اُس کو اسی میں سے خدا کی راہ میں بھی خرچ کرتا ہے۔انسان نے اس راہ میں بتدریج اور زینہ بہ زینہ ترقی کرنا ہے۔اگر انجیل کی طرح یہ تعلیم ہوتی کہ گال پر ایک طمانچہ کھا کر دوسرے طمانچہ کے لئے گال آگے رکھ دی جاوے۔یا سب کچھ دے دیا جاوے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح تعلیم 184