نُورِ ہدایت — Page 183
اس کی نماز گویا بار بار گرتی پڑتی ہے جس کو اُس نے کھڑا کرنا ہے۔جب اُس نے الله اكبر کہا تو ایک ہجوم وساوس ہے جو اس کے حضور قلب میں تفرق ڈال رہا ہے۔وہ ان سے کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے، پریشان ہوتا ہے۔ہر چند حضور و ذوق کے لئے لڑتا مرتا ہے لیکن نما ز جو گری پڑتی ہے بڑی جانکنی سے اسے کھڑا کرنے کے فکر میں ہے۔بار بار إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نستعین کہہ کر نماز کے قائم کرنے کے لئے دُعا مانگتا ہے اور ایسے الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی ہدایت چاہتا ہے جس سے اس کی نماز کھڑی ہو جاوے۔ان وساوس کے مقابل میں متقی ایک بچہ کی طرح ہے جو خدا کے آگے گڑ گڑاتا ہے روتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اخلد الی الْأَرْضِ ہورہا ہوں۔سو یہی وہ جنگ ہے جو تقی کو نماز میں نفس کے ساتھ کرنا ہے اور اسی پر ثواب مترتب ہوگا۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نماز میں وساوس کو فی الفور دور کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وَيُقِيمُونَ الصَّلوة کی منشاء کچھ اور ہے۔کیا خدا نہیں جانتا؟ حضرت شیخ عبدالقادر گیلانی ( رحمتہ اللہ علیہ ) کا قول ہے کہ ثواب اس وقت تک ہے جب تک مجاہدات ہیں اور جب مجاہدات ختم ہوئے تو ثواب ساقط ہو جاتا ہے۔گو یا صوم وصلوٰۃ اُس وقت تک اعمال ہیں جب تک ایک جدو جہد سے وساوس کا مقابلہ ہے لیکن جب اُن میں ایک اعلیٰ درجہ پیدا ہو گیا اور صاحب صوم وصلوٰۃ تقویٰ کے تکلف سے بچ کر صلاحیت سے رنگین ہو گیا تو اب صوم وصلوۃ اعمال نہیں رہے۔اس موقعہ پر انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا اب نماز معاف ہو جاتی ہے؟ کیونکہ ثواب تو اُس وقت تک تھا جس وقت تک تکلف کرنا پڑتا تھا۔سو بات یہ ہے کہ نماز اب عمل نہیں بلکہ ایک انعام ہے۔یہ نما ز اس کی ایک غذا ہے۔اس کے لئے قرة العین ہے۔یہ گو یا نقد بہشت ہے۔مقابل میں وہ لوگ جو مجاہدات میں ہیں وہ کشتی کر رہے ہیں اور یہ نجات پاچکا ہے۔سو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا سلوک جب ختم ہوا۔تو اُس کے مصائب بھی ختم ہو گئے۔مثلاً ایک مخنث اگر کہے کہ وہ کبھی کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تو وہ کونسی نعمت یا ثواب کا مستحق ہے اس میں تو صفت بدنظری ہے ہی نہیں لیکن ایک مرد صاحب رجولیت اگر ایسا کرے تو ثواب پاوے گا۔اسی طرح انسان کو ہزاروں مقامات طے کرنے 183