نُورِ ہدایت — Page 185
کے ناممکن التعمیل ہونے کے باعث ثواب سے محروم رہتے۔لیکن قرآن تو حسب فطرت انسانی آہستہ آہستہ ترقی کراتا ہے۔انجیل کی مثال تو اُس لڑکے کی ہے جو مکتب میں داخل ہوتے ہی بڑی مشکل مکتب کی کتاب پڑھنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اُس کی حکمت کا یہی تقاضا ہونا چاہئے تھا کہ تدریج کے ساتھ تعلیم کی تکمیل ہو۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897، صفحہ 44 -47) يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ ما رَزَقُلهُمْ يُنفِقُونَ۔یاد رکھو اتقا تین قسم کا ہوتا ہے۔پہلی قسم ایفا کی علمی رنگ رکھتی ہے۔یہ حالت ایمان کی صورت میں ہوتی ہے۔دوسری قسم عملی رنگ رکھتی ہے جیسا کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ میں فرمایا ہے۔انسان کی وہ نمازیں جو شبہات اور وساوس میں مبتلا ہیں کھڑی نہیں ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے يَقْرَءُون نہیں فرمایا بلکہ يُقِيمُونَ فرمایا یعنی جو حق ہے اس کے ادا کرنے کا۔سنو! ہر ایک چیز کی ایک علت غائی ہوتی ہے اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہو جاتی ہے مثلاً ایک بیل جو قلبہ رانی کے واسطے خریدا گیا ہے اپنے منصب پر اس وقت قائم سمجھا جاوے گا کہ وہ کر کے دکھا دے نہ صرف یہ کہ اس کی غرض وغایت کھانے پینے ہی تک محدودر ہے۔وہ اپنی علت غائی سے دور ہے اور اس قابل ہے کہ اس کو ذبح کیا جاوے۔اسی طرح يُقِيمُونَ الصَّلوة سے لوازم الصلوۃ معراج ہے اور یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق شروع ہوتا ہے۔مکاشفات اور رویا صالحہ آتے ہیں ، لوگوں سے انقطاع ہوتا جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پیدا ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ تبتل تام ہو کر خدا میں جاملتا ہے۔اصلی جلنے کو کہتے ہیں جیسے کباب کو بھونا جاتا ہے اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔جب تک دل بریان نہ ہو نماز میں لذت اور سرور پیدا نہیں ہوتا اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے سچے معنوں میں اُس وقت ہوتی ہے نماز میں یہ شرط ہے کہ وہ بجمیع شرائط ادا ہو جب تک وہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلو میں میل نما کی ہے حاصل ہوتی ہے۔یادرکھو صلوۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔بعض وقت اعلام تصویری ہوتا 185