نُورِ ہدایت — Page 114
باندھتے ہوئے بھی۔اسی طرح بیوی کے پاس جاتے ہوئے۔وضو کرتے ہوئے کھانا کھاتے ہوئے۔پاخانے میں داخل ہونے سے پہلے۔لباس پہنتے ہوئے بسم اللہ کا کہنا احادیث سے ثابت ہے۔قرآن کریم میں حضرت سلیمان کے ایک خط کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی اپنا خط بسم اللہ سے شروع کیا تھا۔ہر سورۃ کے پہلے بشیر اللہ اس لئے رکھی گئی ہے کہ قرآن کریم کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایک خزانہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں کھولا جا سکتا۔دوسری وجہ بسم الله الرّحمنِ الرَّحِيمِ کو ہر سورۃ کے پہلے رکھنے کی یہ ہے کہ بائبل میں لکھا تھا کہ آخری زمانہ میں جو موسیٰ کا ایک مثیل آنے والا ہے۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہو گا کہ ”جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا“ (استثناء باب 18 آیت 19 ) اس پیشگوئی کے مطابق مشیل موسی کے لئے مقدر تھا کہ جب وہ خدا تعالیٰ کی باتیں کرے اس سے پہلے کہہ لے کہ میں یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے نام پر کہہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں۔پس ضروری تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ رکھی جاتی تاکہ ایک طرف تو موسیٰ کی پیشگوئی پوری ہو اور دوسری طرف یہو داور نصاری کو تنبیہ ہوتی رہے کہ اگر وہ اس کلام کو نہ سنیں گے تو موسیٰ علیہ السلام کے الہام کے مطابق اللہ تعالیٰ کی سزا کے مورد بنیں گے۔تیسری وجہ اس آیت کو ہر سورۃ کے شروع میں رکھنے کی یہ ہے کہ بائبل میں لکھا تھا وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جاوے“ ( استثناء باب 18 آیت 20) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا نام لے کر کوئی جھوٹی بات کہے گا اسے اللہ تعالیٰ بلاک کر دے گا۔پس اس حکم کے مطابق قرآن کریم کی ہر سورۃ کی ابتدا میں بسم اللہ رکھی گئی تا کہ یہود ونصاریٰ پر خصوصاً اور باقی دنیا پر عموما حجت ہو اور اس حکم کی موجودگی میں رسول کریم صلی اللہ 114