نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 115 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 115

علیہ وسلم کی کامیابی اور ترقی کو دیکھ کر ہر حق کا مثلاشی یہ سمجھ لے کہ آپ نے جو کچھ کہا خدا تعالیٰ کی طرف سے کہا۔اگر ایسا نہ ہو تو جب خدا تعالیٰ کا نام لے کر آپ نے اس کلام کو پیش کیا تھا کیوں آپ بلاک نہ ہوئے۔پس بسم اللہ یہود پر خصوصاً حجت ہے۔ہر سورۃ کے پہلے بسم اللہ رکھ کر گویا ایک سو چودہ دفعہ یہود کو ملزم بنایا گیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک سو چودہ دلیلیں پیش کی گئی ہیں۔اگر صرف قرآن کریم کے شروع میں یہ آیت ہوتی تو یہ بات حاصل نہ ہو سکتی تھی۔چوتھی وجہ اس آیت کو ہر سورۃ کے شروع میں رکھنے کی یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے والا تین حال سے خالی نہیں یا تو وہ تہی دست اور بے سرمایہ ہوگا یا گناہوں کے ارتکاب سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو بھڑکا چکا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچنے کا کوئی طبعی ذریعہ اس کے پاس نہ ہوگا یا پھر وہ دین کی راہ میں قربانی کرنے والا ہوگا۔یہ ظاہر ہے کہ ان تینوں قسم کے لوگوں کی قلبی کیفیت الگ الگ ہوگی۔پہلی قسم کا انسان حیران دوسری قسم کا مایوس اور تیسری قسم کا مغرور ہو سکتا ہے۔پہلی قسم کا انسان اس حیرانی میں مبتلا ہوگا کہ میں کہاں سے صداقت تلاش کروں۔دوسری قسم کا انسان اس غم میں گھلا جار ہا ہوگا کہ میں کس منہ سے مانگوں۔اور تیسری قسم کا اس اثر کے نیچے ہو گا کہ جو کچھ حاصل ہو سکتا تھا مجھے حاصل ہو گیا۔دل کی ان تینوں کیفیتوں کے ماتحت انسان نفع حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔پس ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم رکھا گیا۔تا جو تہی دست ہے اسے راستہ بتایا جائے کہ تہی دستوں کی مدد کرنے والا ایک خدا موجود ہے جو بغیر استحقاق کے فضل کرتا ہے۔اور جو نا فرمانی کر کے اپنا حق کھو چکا ہے اسے توجہ دلائی جائے کہ مایوس نہ ہو۔جس خدا نے یہ سورۃ اُتاری ہے وہ گناہوں کو بخشنے پر بھی آمادہ رہتا ہے اور جو قربانی کی وجہ سے مغرور ہو رہا ہو اسے توجہ دلائی جائے کہ خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے خزانے غیر محدود ہیں۔پس کسی ایک جگہ پر قدم نہ روک کہ ابھی غیر متناہی ترقیات باقی ہیں۔ظاہر ہے کہ دل کی اس قسم کی اصلاح کے بعد قرآنی مطالب جس طرح کھل سکتے ہیں اس کے بغیر نہیں کھل 115