نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 113 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 113

کے نماز میں شامل ہونے سے پہلے امام رکوع میں جا چکا ہو اس صورت میں اسے تکبیر کہہ کر بغیر کچھ پڑھے رکوع میں چلے جانا چاہئے۔امام کی قراءت ہی اس کی قراءت سمجھ لی جائے گی۔سورۃ فاتحہ کے نماز میں پڑھنے کی تاکید مختلف احادیث میں آئی ہے۔قرآن کریم کی سب سورتیں بسم اللہ الرّحمٰنِ الرَّحِیمِ سے شروع ہوتی ہیں۔سوائے سورۃ براء ت کے مگر اس کے بارہ میں زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ وہ الگ سورۃ نہیں بلکہ سورۃ انفال کا تتمہ ہے اور اس لئے اس میں الگ بسم اللہ نہیں لکھی گئی۔بسم اللہ کے متعلق بعض علماء نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ہر سورۃ کا حصہ بسم اللہ نہیں بلکہ صرف سورۃ فاتحہ کا حصہ بسم اللہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کسی سورۃ کا حصہ بھی بسم اللہ نہیں ہے لیکن یہ خیال درست نہیں۔احناف کے متعلق جو بعض لوگ یہ خیال کرتے کہ وہ بسم اللہ کو گو یا قرآن کریم کا حصہ نہیں سمجھتے۔یہ غلط ہے۔امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ آیت مستقل آیت ہے اور سورۃ کا حصہ نہیں۔امام ابوبکر رازی جو حنفیوں کے آئمہ سے ہیں اپنی کتاب احکام القرآن جزء اول میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت کسی سورۃ کا حصہ نہیں گو دوسورتوں کا فاصلہ بتانے کے لئے ایک مستقل آیت کے طور پر اتاری گئی ہے۔ہمیں اس کے ساتھ نماز شروع کرنے کا حکم بطور تبرک کے دیا گیا ہے۔گومیرے نزدیک ان کا یہ عقیدہ بھی درست نہیں اور حق یہی ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہر سورۃ کا حصہ ہے اور ہر سورۃ کے پہلے اس کے رکھنے میں بہت سی حکمتیں ہیں۔بسم اللہ کی فضیلت پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص زور دیا ہے آپ فرماتے ہیں کہ جس بڑے کام کو بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکت ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت قائم کی ہے کہ مسلمان اپنے سب کاموں کو بسم اللہ سے شروع کیا کریں۔چنانچہ ایک حدیث ہے کہ اپنا دروازہ بند کرتے ہوئے بھی بسم اللہ کہہ لیا کرو اور چراغ بجھاتے ہوئے بھی۔اور برتن کو ڈھانکتے ہوئے بھی۔اور اپنی مشک کا منہ 113