نُورِ ہدایت — Page 1178
نہایت چالاکی سے کوئی بد عقیدگی اور بدعملی سکھا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس دعا کو پڑھے گا اور خدا کی ربوبیت، ملکیت، الوہیت کو ذہن میں رکھے گا وہ ضرور ایسے وساوس سے بچ جائے گا۔وسوسہ انداز چپکے سے ایک شوشہ چھوڑ دیتے ہیں اور کمزور آدمی کو ایسی جگہ سے پکڑتے ہیں کہ جہاں ان کا وار اثر کر سکے۔لدھیانہ میں ایک شخص میر عباس علی تھے۔وہ حضرت صاحب سے بہت خلوص رکھتے تھے حتی کہ ان کی موجودہ حالت کے متعلق حضرت صاحب کو الہام بھی ہوا تھا۔لدھیانہ میں جب حضرت مسیح موعود اور محمد حسین کا مباحثہ ہوا تو میر عباس علی حضرت صاحب کا کوئی پیغام لے کر گئے۔ان کے مولوی محمد حسین وغیرہ مولویوں نے بڑے احترام اور عزت سے ہاتھ چومے اور کہا آپ آل رسول ہیں۔آپ کی تو ہم بھی بیعت کر لیں لیکن یہ مغل کہاں سے آ گیا۔اگر کوئی مامور آتا تو سادات میں سے آنا چاہیے تھا۔پھر کچھ تصوف و صوفیاء کا ذکر شروع کر دیا۔میر صاحب کو صوفیاء سے بہت اعتقاد تھا۔مولویوں نے کچھ ادھر اُدھر کے قصے بیان کر کے کہا کہ صوفیاء تو اس قسم کے عجوبے دکھایا کرتے تھے۔اگر مرزا صاحب میں بھی کچھ ہے تو کوئی عجوبہ دکھلائیں۔ہم آج ہی ان کو مان لیں گے۔مثلاوہ کوئی سانپ پکڑ کر دکھائیں۔یا اور کوئی اسی قسم کی بات کریں۔میر عباس علی کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی۔اور جب حضرت صاحب کے پاس آئے تو کہا کہ حضور اگر کوئی کرامت دکھائیں تو سب مولوی مان لیں گے۔حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جب کرامت کا لفظ ان کی زبان سے نکلا تو اسی وقت مجھے یقین ہو گیا کہ بس میر صاحب کو مولویوں نے پھندے میں پھنسا لیا۔اس پر حضرت صاحب نے ان کو بہت سمجھایا مگر ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔تو وسوسہ انداز لوگ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال دیتے ہیں جس سے اسے ٹھوکر لگ جاتی ہے۔قادیان میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کا یہ کام ہے کہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالیں۔بیعت بھی کی ہوئی ہے۔اپنے آپ کو مخلص بھی قرار دیتے ہیں۔مگر وسوسہ اندازی سے باز نہیں آتے۔1178