نُورِ ہدایت — Page 1177
اُس ان پڑھ نے اسے گردن سے پکڑ لیا اور کہا کہ اچھا ہوا آج تو مجھے مل گیا ہے۔میں تو مدتوں سے تیری تلاش میں تھا۔آج تیری خبر لوں گا۔یہ کہہ کر اسے مارتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ تُو نے ہی میرے فلاں رشتہ دار کو مارا ہے۔اب تو میرے قابو آیا ہے۔میں تجھ کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا۔جب بہت مار پڑی تو اس نے کہا مجھے چھوڑ دے میں خدا نہیں ہوں۔پس ٹھوکر لگنے کے تین ذریعے ہیں۔ربوبیت۔ملکیت۔الوہیت۔اس لئے اللہ تعالیٰ اس کا علاج بتاتا ہے۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاس کہ اس بات کا یقین رکھو کہ ربّ النّاس کے سوا کوئی رب نہیں۔مَلِكِ النَّاس اصل بادشاہ تو وہ ہے جو خدا ہے۔إله الناس اور معبود بھی وہی ہے۔اس لیے کہو کہ میں اس خدا کی پناہ میں آتا ہوں جو رب ہے۔ملک ہے اور اللہ ہے اس دعا میں ایک لطیف نکتہ ہے۔اسلام کی تمام دعاؤں میں ایسے الفاظ اور ایسا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے خدا کی غیرت کو جوش آئے۔کہا جا سکتا ہے کہ بجائے خدا کی تین صفات کے ذکر کرنے کے کیوں نہ صرف اله الناس کہہ دیا کہ لفظ الہ میں تینوں مراتب اور صفات بھی آجاتے۔مگر ا گر صرف لفظ اللہ کو رکھا جاتا تو وہ بات پیدا نہ ہوتی جو اس تفصیل سے پیدا ہوتی ہے۔خدا رب ہے تو رب الناس کہ کر گویا خدا کی غیرت کو جوش دلایا ہے کہ لوگوں کا رب تو یہ ہے۔پھر اور کوئی کس طرح رب ہوسکتا ہے۔اسی طرح باقی دونوں صفات میں بھی خدا کی غیرت کو جوش میں لایا گیا ہے۔اور یہ ایسی بات ہے کہ ہر شخص اس کو مشاہدہ کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ نے خود شرک کے متعلق کس قدر غیرت کا اظہار فرمایا ہے۔اس لیے جہاں ٹھوکر لگنے کا خطرہ تھا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ایسی دعا تلقین کی کہ جس سے خدا کی غیرت کو جوش آئے اور وہ اپنے بندوں کو تمام خطرات سے محفوظ رکھے۔تو انسان کو ٹھوکروں سے بچنے کے لیے کس چیز سے پناہ مانگنا چاہیے۔فرمایا : مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الخنّاس - خناس کے وسوسوں سے۔وسوسہ ڈالنے والے ہمیشہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جو بہت پوشیدہ ہوتے ہیں اور 1177