نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1176 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1176

اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اوروں کے لیے بھی بول لیتے ہیں۔بہر حال ایک ربوبیت انسان کی ہوتی ہے۔مثلاً اس کے غریب رشتہ دار ہیں اور وہ ان کی پرورش کرتا ہے۔اس پر ابتلا اس طرح آتا ہے کہ اس کے پاس اتنا رزق نہیں ہوتا کہ یہ ان کی پرورش کر سکے۔اس لیے یہ بعض ناواجب طریق اختیار کرتا ہے۔چوری کرتا ہے۔رشوت لیتا ہے۔اسی طرح کسی کو اپنا رب سمجھتا ہے۔اس کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔یا اور اسی قسم کی باتیں کرتا ہے تو خدا کی ربوبیت کو بھول جاتا ہے اور بندوں کو اپنا رب بنا لیتا ہے۔دوسرا ذریعہ ملکیت ہے۔یعنی بعض بادشاہ ہوتے ہیں تو ان کے بادشاہ ہونے کی حیثیت میں ان پر رعیت کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں۔وہ ان میں خیانت کرتے ہیں۔یا خودرعیت ہوتے ہیں اور دوسرا ملک ہوتا ہے تو رعیت ہونے کی حالت میں بغاوت یا دیگر قسم کے سیاسی جرم کرتے ہیں۔تیسری شق الوہیت ہے کہ کبھی تو انسان خود اللہ بن جاتا ہے۔اور کبھی دوسروں کو الہ بنالیتا ہے۔حضرت خلیفہ اول جب اپنے ایک استاد سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے آپ کو کہا کہ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم کبھی خدا بننے کی خواہش نہ کرنا۔حضرت مولوی صاحب نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا خدا بھی کوئی بنتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ زبان سے خدا ہونے کا تو بہت کم لوگ دعویٰ کرتے ہیں مگر عملاً بہت لوگ خدائی کا دعوی کرتے ہیں اور وہ اس طرح کہ وہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہیں وہی ہو کر رہے۔حالانکہ یہ بات تو خدا کے شایانِ شان ہے۔جولوگ قولا دعویٰ کرتے ہیں ان کا علاج تو عام لوگ بھی کر لیا کرتے ہیں۔جیسا کہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا۔علماء نے اسے بہتیر اسمجھایا۔مگر وہ باز نہ آیا۔ایک ان پڑھ تھا۔وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ مجھے موقع ملے تو میں اس کو سمجھاؤں۔مگر خدائی کے مدعی کے چیلے ہر وقت اس کے ارد گرد جمے رہتے تھے۔اتفاقاً ایک دن جبکہ وہ اکیلا تھا تو اسے موقع ملا۔وہ اس کے پاس گیا اور جا کر دریافت کیا کہ کیوں جی آپ خدا ہیں ؟ اس نے کہا ہاں۔1176