نُورِ ہدایت — Page 1175
کسی جانور میں ایک ایک نقص ہے تو انسان میں تمام کے تمام نقائص جمع ہو جاتے ہیں۔بے حیا یہ ہوتا ہے۔بے وفا یہ ہوتا ہے۔اندھا تقلید کرنے والا یہ ہوتا ہے۔احمق یہ ہوتا ہے۔کبھی بھیڑ کی طرح مقلد ہو جاتا ہے۔لوگوں کو نمازیں پڑھتا دیکھتا ہے تو خود بھی نماز پڑھنے لگتا ہے لیکن کچھ نہیں سمجھتا کہ نماز کیوں پڑھتا ہوں؟ اور پھر لمبی نماز پڑھتا ہے کہ لوگ تعریف کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو نما زمیں تو لمبی لمبی پڑھیں گے مگر ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔یہ ایسے ہی لوگوں کے متعلق آپ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ الناس میں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ کیونکر انسان انسانیت سے گرتا ہے اور ساتھ ہی گرنے سے محفوظ رہنے کا طریق بتایا ہے۔فرمایا قُلْ أَعُوذُ بِرَبّ الناس یعنی تین ذریعے ہیں جن کے ذریعہ انسان او پر چڑھتا ہے اور تین ہی وہ ذریعے ہیں جن سے نیچے گرتا ہے۔ان تین ذرائع میں سے ایک ربوبیت ہے۔دوسرا ملکیت ہے اور تیسرا الوہیت۔بہت دفعہ ربوبیت کے ذریعہ ابتلا آتا ہے اور بہت دفعہ ملکیت کے ذریعہ اور بہت دفعہ الوہیت کے ذریعہ۔اور پھر ان میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں۔ایک نسبت فاعلی کے لحاظ سے اور دوسری نسبت مفعولی کے لحاظ سے۔یعنی کبھی انسان دوسروں کا رب بنتا ہے اور کبھی دوسروں کو اپنا رب بنا تا ہے۔پھر کبھی خود ملک بنتا ہے اور کبھی دوسروں کو اپنا ملک بنا تا ہے۔اسی طرح کبھی خود اللہ بنتا ہے اور کبھی دوسروں کو اپنا اللہ بنالیتا ہے۔گویا تین سے چھ ذریعے بن جاتے ہیں۔کبھی یہ رب ہوتا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ لفظ رب عام ہے۔خدا کے لیے مثلاً رب الناس آیا ہے۔اس کے معنی ہیں پیدا کرنے والا۔اور پھر ادنی حالت سے اعلیٰ کی طرف لے جانے والا۔اور بعض دفعہ رب کمر کہیں گے۔اور اس کے معنی ہوں گے تمہارا سردار۔تو لغت والوں نے دونوں طرح لکھا ہے کہ لفظ رب بغیر اضافت یا باضافت خدا کے لیے آتا ہے 1175