نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1174 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1174

کھا کر پیچھے چلا آتا رہا۔انہوں نے ایک اور روٹی ڈال دی اور کہا کہ واقعی بیچارا ایک روٹی سے کیا سیر ہوگا لیکن جب دو روٹیاں بھی کھا چکا تو پھر بھی ان کے پیچھے سے نہ ہٹا۔انہوں نے عصہ میں آکر تیسری روٹی بھی ڈال دی۔اور کہا کہ تو بڑا بے حیا ہے جو پیچھا نہیں چھوڑتا۔انسان کی عادت ہے کہ جب وہ غصہ میں آتا ہے تو دیواروں اور درختوں کو بھی مخاطب کرلیا کرتا ہے۔تو انہوں نے عنصہ کی حالت میں کتنے کو بے حیا کہا۔اس پر کشفی طور پر اس کتے نے ان سے گفتگو کی اور کہا کہ بے حیائیں ہوں کہ تو۔خدا تجھ کو ہمیشہ رزق پہنچاتا تھا۔مگر صرف تین دن نہ پہنچا تو اٹھ کرلوگوں کے دروازوں پر مانگنے چلا آیا۔مگر میں ہوں کہ ہمیشہ اپنے آقا کے دروازے پر پڑا رہتا ہوں، خواہ ہفتوں فاقہ میں گزر جائیں۔کتے کی اس گفتگو سے جو کشفی طور پر ہوئی تھی ان کو اپنی کمزوری کا احساس ہو گیا۔اس سے توبہ کی اور اپنے اس مقام پر جا بیٹھے اور خدا تعالیٰ نے پھر ان کو اسی طرح کھانا پہنچانا شروع کر دیا۔تو واقعی کتنے میں وفاداری کی صفت ایسی ہے کہ وہ اپنے آقا کی خاطر جان بھی دے دیتا ہے اور ذرا پروانہیں کرتا۔مگر انسان ایسے ہوتے ہیں جو دوست وغیرہ کو مصیبت کے وقت چھوڑ دیتے ہیں۔تو بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جن میں کتے جتنی بھی وفا نہیں ہوتی۔اسی طرح گدھے کو احمق کہا جاتا ہے اور حماقت کے لیے گدھا مشہور ہے۔لیکن بعض انسان اپنی حماقت میں گدھے سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔گدھے میں اتنی تمیز ہوتی ہے کہ وہ کبھی شیر پر حملہ نہیں کرتا۔بلکہ اس کی حس ایسی تیز ہوتی ہے کہ وہ شیر کی دُور سے ہی بُو سونگھ کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن انسان جب حماقت پر آتا ہے تو نہ صرف خدا کے پہلوانوں پر حملہ کرتا ہے۔بلکہ خدا کو بھی مقابلہ کا چیلنج دے دیتا ہے۔گدھا احمق ہے مگر اتنا نہیں کہ خطرہ کی جگہ میں ٹھہرا ر ہے اور شیر کی بو پاتے ہی اس کو چھوڑ نہ دے۔لیکن انسان ایسا احمق ہوتا ہے کہ خدا کے سپہ سالاروں کے مقابلہ میں چلا جاتا ہے۔پھر انسان گرتے گرتے بندر سے بھی زیادہ نقال اور خنزیر سے بھی زیادہ بے حیا ہوجاتا ہے۔اگر 1174