نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1129 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1129

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَمِن شَرِ التَّقْفتِ فِي الْعُقَدِ میں تنزل کے اسباب میں سے ایک سبب کا ذکر کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اگر قومی شیرازہ بکھر جائے اور لا مرکزیت آجائے تو قوم تباہ ہو جاتی ہے۔اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ ایسے حالات سے بچائے اور اگر ایسے حالات کبھی پیدا ہوں تو ان کے بدنتائج سے محفوظ رکھے۔اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قومی تباہی کا ایک اور سبب بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ بعض اوقات کوئی قوم اس وجہ سے تباہ ہو جاتی ہے کہ کوئی بیرونی دشمن اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ جو نعمتیں، مال کی فراوانی اور آرام و آسائش اس قوم کو حاصل ہوتی ہیں وہ اس سے چھین لے اور خود ان سے فائدہ اٹھائے۔اگر ایسا دشمن ملک پر حملہ کرنے کے بعد غالب آجائے تو پھر ماتحت ملک کی ترقی ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جنت جہنم سے تبدیل ہو جاتی ہے اور اسے مختلف قسم کے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پس وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ کے الفاظ کہہ کر دعا سکھائی کہ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں غلبہ دینا ہے اور جس کے نتیجہ میں تمہاری ترقی کا سورج وسط آسمان میں چمکے گا اور تمہارا ملک جنت بن جائے گا تم اس غلبہ کے متعلق دعا کرو کہ کوئی حاسد حملہ کر کے اس نعمت کو تم سے چھین نہ لے۔الغرض اس سورۃ میں نہایت لطیف رنگ میں مسلمانوں کے غلبہ کی بشارت دی۔اور پھر مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ تنزل اور اس کے اسباب کو مدنظر رکھیں اور دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے۔اس مضمون کو ادا کرتے ہوئے مسلمانوں پر جس جس رنگ میں تباہی آئی تھی اس کا بھی ذکر کر دیا تا کہ مسلمان وقت پر متنبہ ہوسکیں۔سورۃ الفلق میں یہ مضمون بھی بیان ہورہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل توحید پر ایمان لانے والے کو صرف خدا تعالیٰ پر توکل کرنا چاہئے اور اس کی توحید کا ڈنکا ہر جگہ بجانا چاہئے۔اور اگر اس 1129