نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1130 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1130

وجہ سے مخالفت کا طوفان اُٹھے یا ایسے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں جو عزیزوں ، دوستوں، رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو اُکسا کر خلاف کر دیں تب بھی اُسے کسی کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ کہ جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے کہ وہ کسی کی پرواہ نہ کرے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ حقیقت خدا تعالیٰ کا ہو گیا اور وہ اپنے دعویٰ تو کل میں سچا تھا۔اور جب وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا تو اس کی اس ترقی کو دیکھ کر اس کے حاسد بھی پیدا ہو جائیں گے جو طرح طرح کے طعنے دیں گے۔کوئی کہے گا کہ اتفاقا ترقی کر گیا۔کوئی کچھ کہے گا اور کوئی کچھ۔ایسے وقت کے متعلق اللہ تعالی نے یہ ہدایت دی کہ اعلان کر دو کہ مجھے اس وقت ایسے حاسدوں کی بھی کوئی پروا نہیں۔میں اس وقت بھی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور اسی کی پناہ میں آتا ہوں کیونکہ وہ نہایت مہربان ہے اور اپنی ذات پر توکل کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ میں ایک وجود کے مبعوث ہونے کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا نام احادیث میں مہدی اور مسیح رکھا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا جبکہ مسلمانوں کے اندر سخت تفرقہ ہوگا اور ان کا اتحاد باقی نہ رہے گا۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ جس شخص کو دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کرے گا لوگ اس کی شدید مخالفت کریں گے اور اس پر حسد کریں گے۔پس وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جب ایسے شخص کو مبعوث کرے تو اس کے حاسدوں میں سے نہ بنیں بلکہ اس کے معاونین و انصار میں سے ہو کر خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔وہ مضامین جو اس سورۃ کے خلاصہ بیان کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ اپنے مضمون کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور امت مسلمہ کو بحیثیت قوم اور افراد کے ایک کامل دعا اس سورۃ کے ذریعہ سے سکھائی گئی ہے۔اور وہ اسباب جو قومی یا فردی طور پر تباہی کے پیدا ہوسکتے ہیں ان کو بیان کیا گیا ہے۔اور یہ بتایا گیا ہے کہ انسان جب تک خدا تعالیٰ کی حفاظت 1130