نُورِ ہدایت — Page 1128
* وَمِنْ شَرِ التَّقْفَتِ فِي الْعُقَدِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ کامل توحید کو ماننے والا جب یہ اعلان کرے گا کہ اب میں نے خدا سے تعلق قائم کر لیا ہے تو کچھ دوست قائم رہیں گے اور کہیں گے تم نے بڑا اچھا کام کیا جو اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کر لیا۔مگر کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو ان حمائت کرنے والوں کو بدظن کرنے کی کوشش کریں گے اور چاہیں گے کہ دوست بھی دشمن بن جائیں۔پس ایسے وقت کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے توحید کو ماننے والے تم یہ اعلان کر دینا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں اُن لوگوں کے شر سے جو میرے دوستوں کے دلوں میں وساوس پیدا کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ تعلقات محبت توڑ کر میرے دشمن ہو جائیں اور میرے راستہ میں مشکلات پیدا کریں۔فرمایا وَ مِنْ شَرِ التَّقْفتِ فِي الْعُقَدِ ایسے وقت میں جب انسان مشکلات و مصائب میں مبتلا ہو کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو جاتے ہیں جو گرے ہوئے کو گراتے اور اسے اور زیادہ ذلیل اور رسوا کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔اور جس وقت انسان مشکلات میں مبتلا ہو اس وقت بعض لوگ اس کے رہے سہے تعلقات بھی بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ یہ عام طور پر مشاہدہ میں آتا رہتا ہے کہ گھر میں ذرا کسی بچہ پر ناراض ہوں تو دوسرے بچے جھٹ اس کے متعلق شکایتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔کوئی کہتا ہے اتاں جان اس نے فلاں موقع پر یہ شرارت کی تھی۔کوئی کہتا ہے۔ابا جان اس نے یہ بھی شرارت کی تھی۔غرض جب کوئی گر جائے اور ذلیل ہو جائے تو جھٹ اس کی اور لوگ شکایتیں کرنے والے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے کہ وہ لوگ جو تعلقات میں رخنہ ڈلوانے کی کوشش کرتے ہیں اُن سے اللہ تعالی کی پناہ چاہو کیونکہ اللہ تعالی کا ہی فضل ہو تو انسان کے تعلقات اللہ تعالیٰ اور اس کے نیک بندوں اور رشتہ داروں اور حکمرانوں سے قائم رہ سکتے ہیں۔کیونکہ انسان کو کچھ علم نہیں کہ کس طرف سے وسوسہ اندازی ہو کر یہ تعلقات ختم ہو جائیں اور ان میں رخنہ پڑ جائے۔1128